Surah Taha Ayat 80 (20:80)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى 80
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے بنی اسرائیل! بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہارے ساتھ کوہِ طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں طور کی د ہنی طرف کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔
Tafseer (Urdu)
{یبنی اسرآءیل:اے بنی اسرائیل!} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور ا س کی قوم کے غرق ہونے کے بعد اللہ تعالی نے اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ اے بنی اسرائیل! بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن فرعون اور ا س کی قوم سے نجات دی جو تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور تم سے انتہائی محنت و مشقت والے کام لیتے تھے اور ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کے ذریعے تمہارے ساتھ کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا کہ ہم حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو وہاں توریت عطا فرمائیں گے جس پر عمل کیا جائے اور ہم نے تم پر تیہ کے میدان میں من و سلوی اتارا اور فرمایا ’’ ہم نے جو پاکیزہ رزق تمہیں دیا ہے اس میں سے کھاو اور اس میں ناشکری اور نعمت کا انکار کر کے اور ان نعمتوں کو معاصی اور گناہوں میں خرچ کر کے یا ایک دوسرے پرظلم کر کے زیادتی نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب اتر ائے گااور جس پر میرا غضب اتر ایا توبیشک وہ جہنم میں گرگیا اور ہلاک ہوا اور بیشک میں اس ادمی کو بہت بخشنے والا ہوں جس نے شرک سے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر اخری دم تک ہدایت پر رہا۔(روح البیان طہ تحت الایۃ: ۸۰-۸۲ ۵ / ۴۱۰-۴۱۱ خازن طہ تحت الایۃ: ۸۰-۸۲ ۳ / ۲۵۹-۲۶۰ مدارک طہ تحت الایۃ: ۸۰-۸۲ ص۶۹۸-۶۹۹ ملتقطا) توبہ کی اہمیت اور ا س کی قبولیت: اس سے معلوم ہوا کہ توبہ ایسی اہم ترین چیز ہے جس سے بندہ اللہ تعالی کی طرف سے بخشش اور مغفرت کا پروانہ حاصل کر سکتا ہے ۔ علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :جان لو کہ توبہ صابن کی طرح ہے تو جس طرح صابن ظاہری میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اسی طرح توبہ باطنی یعنی گناہوں کے میل اور گندگیوں کو صاف کر دیتی ہے۔(روح البیان طہ تحت الایۃ: ۸۲ ۵ / ۴۱۲)البتہ یہاں یہ بات یاد رہے کہ وہی توبہ مقبول اور فائدہ مند ہے جو سچی ہو اور سچی توبہ اپنے گناہ کا اقرار کرنے اس پر نادم و شرمسار ہونے اور ائندہ وہ گناہ نہ کرنے کے پختہ ارادے کا نام ہے اور جو لوگ فقط زبان سے توبہ کے الفاظ دہرا لینے یا ہاتھ سے توبہ توبہ کے اشارے کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ یہ حقیقی توبہ نہیں ہے۔