Surah Taha Ayat 90 (20:90)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖۚ-وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ 90
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ اے میری قوم ! تمہیں اس کے ذریعے صرف آزمایا جارہا ہے اور بیشک تمہارا رب رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے اور بیشک تمہارا رب رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد قال لهم هرون من قبل:اور بیشک ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا۔} ارشاد فرمایا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے قوم کی طرف لوٹنے سے پہلے بے شک حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کو نصیحت کی اور انہیں اس معاملے کی حقیقت سے اگاہ کیا اور فرمایا تھا’’ اے میری قوم ! اس بچھڑے کے ذریعے صرف تمہاری ازمائش کی جارہی ہے تو تم اسے نہ پوجو اور بیشک تمہارا رب جو عبادت کا مستحق ہے وہ رحمن عزوجل ہے نہ کہ بچھڑا تو میری پیروی کرو اور بچھڑے کی پوجا چھوڑ دینے میں میرے حکم کی اطاعت کرو۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۹۰ص۷۰۰ روح البیان طہ تحت الایۃ: ۹۰ ۵ / ۴۱۷ ملتقطا) وعظ و نصیحت کی عمدہ ترتیب: حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام نے قوم کو اس ترتیب سے نصیحت فرمائی کہ سب سے پہلے انہیں باطل چیز کے بارے میں تنبیہ فرمائی کہ تمہیں بچھڑے کے ذریعے ازمایا جا رہا ہےپھر اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اللہ تعالی کو پہچاننے کی دعوت دی کہ تمہارا رب بچھڑا نہیں بلکہ تمہارا رب رحمن عزوجل ہے پھر انہیں نبوت کو پہچاننے کی دعوت دی کہ میں نبی ہوں اس لئے تم سامری کی بجائے میری پیروی کرو اس کے بعد اپ نے انہیں شریعت کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا کہ میں نے تمہیں بچھڑے کی پوجا نہ کرنے کا جو حکم دیا ہے اسے پورا کرو۔ یہ وعظ و نصیحت کرنے کے معاملے میں انتہائی عمدہ ترتیب ہے اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں وعظ و نصیحت کی اس ترتیب کا انتہائی اعلی نمونہ موجود ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی جا ن کے دشمنوں کو اعلانیہ طور پر ان کے باطل معبودوں اور بتوں کی عبادت کے معاملے میں تنبیہ فرمائی اور انہیں بتایا کہ یہ مٹی پتھر اور دھاتوں سے بنائے گئے خود ساختہ اور ہر طرح سے عاجز بت تمہارے معبود ہو ہی نہیں سکتے بلکہ تمہارا معبود وہ ہے جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو یہ انسانی وجود عطا کیا اور وہی حقیقی طور پر نعمتیں عطا فرمانے والا اور نقصانات دور کرنے والا ہے پھراپ علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اپنی نبوت و رسالت اور اپنے مقام و مرتبے کی پہچان کروائی اور اس کے بعد انہیں دین اسلام کے احکامات پر عمل کا حکم دیا۔