Surah Al Anbiya Ayat 107 (21:107)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ 107
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما ارسلنك الا رحمة للعلمین:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے اپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رحمت: تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نبیوں رسولوں اور فرشتوں علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے رحمت ہیں دین و دنیا میں رحمت ہیں جنات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں حیوانات نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں الغرض عالم میں جتنی چیزیں داخل ہیں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان سب کے لئے رحمت ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ۔ مومن کے لئے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دنیامیں رحمت ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بدولت اس کے دنیوی عذاب کو موخر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں دھنسانے کا عذاب شکلیں بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۷ ۳ / ۲۹۷) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’عالم ماسوائے اللہ کو کہتے ہیں جس میں انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں ۔ تو لاجرم (یعنی لازمی طور پر) حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان سب پر رحمت و نعمت رب الارباب ہوئے اور وہ سب حضور کی سرکار عالی مدار سے بہرہ مند وفیضیاب ۔ اسی لئے اولیائے کاملین وعلمائے عاملین تصریحیں فرماتے ہیں کہ’’ ازل سے ابد تک ارض وسماء میں اولی وآخرت میںدین ودنیا میں روح وجسم میں چھوٹی یا بڑی بہت یا تھوڑی جو نعمت ودولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ جہاں پناہ سے بٹی اور بٹتی ہے اور ہمیشہ بٹے گی۔(فتاوی رضویہ رسالہ: تجلی الیقین ۳۰ / ۱۴۱) اور فرماتے ہیں’’حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں رؤف رحیم ہیں ان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں ہے ان کی بھلائیوں پرحریص ہیں جیسے کہ قرآن عظیم ناطق: ’’لقد جآءكم رسول من انفسكم عزیز علیه ما عنتم حریص علیكم بالمؤمنین رءوف رحیم‘‘(توبہ:۱۲۸) (ترجمہ کنزالعرفان: بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے ائے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر بہت مہربان رحمت فرمانے والے ہیں ۔) تمام عاصیوں کی شفاعت کے لئے تو وہ مقررفرمائے گئے: ’’و استغفر لذنبك و للمؤمنین و المؤمنت‘‘(سورہ محمد:۱۹) (ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔)( فتاوی رضویہ ۲۴ / ۶۷۴-۶۷۵) ایت’’و ما ارسلنك الا رحمة للعلمین‘‘ اور عظمت مصطفی : یہ ایت مبارکہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عظمت و شان پر بہت بڑی دلیل ہے یہاں اس سے ثابت ہونے والی دو عظمتیں ملاحظہ ہوں : (1)…اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’جب حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں تو واجب ہو اکہ وہ ( اللہ تعالی کے سوا) تمام سے افضل ہوں ۔( تفسیرکبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۲۵۳ ۲ / ۵۲۱) تفسیر روح البیان میں اکابر بزرگان دین کے حوالے سے مذکور ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوتمام جہانوں کے لئے خواہ وہ عالم ارواح ہوں یا عالم اجسام ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول سب کے لئے مطلق تام کامل عام شامل اور جامع رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو تمام عالموں کے لئے رحمت ہو تو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۷ ۵ / ۵۲۸) (2)… اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں کیونکہ جو شخص دنیا میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لائے گا اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اسے دونوں جہاں میں اپ کی رحمت سے حصہ ملے گا اور وہ دنیا واخرت میں کامیابی حاصل کرے گا اور جو اپ پر ایمان نہ لایا تو وہ دنیا میں اپ کی رحمت کے صدقے عذاب سے بچ جائے گا لیکن اخرت میں اپ کی رحمت سے کوئی حصہ نہ پا سکے گا۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’لوگ کفر جاہلیت اور گمراہی میں مبتلا تھے اہل کتاب بھی اپنے دین کے معاملے میں حیرت زدہ تھے کیونکہ طویل عرصے سے ان میں کوئی نبی علیہ السلام تشریف نہ لائے تھے اور ان کی کتابوں میں بھی (تحریف اور تبدیلیوں کی وجہ سے) اختلاف رو نما ہو چکاتھا تو اللہ تعالی نے اس وقت اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا جب حق کے طلبگار کو کامیابی اور ثواب حاصل کرنے کی طرف کوئی راہ نظر نہ ا رہی تھیچنانچہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لوگوں کوحق کی طرف بلایا اور ان کے سامنے درست راستہ بیان کیااور ان کے لئے حلال و حرام کے احکام مقرر فرمائے پھر اس رحمت سے(حقیقی) فائدہ اسی نے اٹھایا جو حق طلب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا (اور وہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لا کر دنیا و اخرت میں کامیابی سے سرفراز ہوا اور جو ایمان نہ لایا) وہ دنیا میں اپ کے صدقے بہت ساری مصیبتوں سے بچ گیا۔( تفسیرکبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۷ ۸ / ۱۹۳ ملخصا) تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رحمت میں فرق: ویسے تو اللہ تعالی کے تمام رسول اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام رحمت ہیں لیکن اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عین رحمت اور سراپا رحمت ہیں اسی مناسبت سے یہاں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رحمت میں فرق ملاحظہ ہوچنانچہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ اللہ تعالی نے قران مجید میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’ و رحمة منا‘‘(مریم:۲۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپنی طرف سے ایک رحمت (بنادیں )۔ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں ارشاد فرمایا ’’ و ما ارسلنك الا رحمة للعلمین‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔‘‘ ان دونوں کی رحمت میں بڑا عظیم فرق ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے رحمت ہونے کو حرف ’’من‘‘ کی قید کے ساتھ ذکر فرمایا اور یہ حرف کسی چیز کا بعض حصہ بیان کرنے کے لئے اتا ہے اور اسی وجہ سے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ان لوگوں کے لئے رحمت ہیں جو اپ پر ایمان لائے اور اس کتاب و شریعت کی پیروی کی جو اپ لے کر ائے اور ان کی رحمت کا یہ سلسلہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبعوث ہونے تک چلا پھر اپ کا دین منسوخ ہونے کی وجہ سے اپنی امت پر اپ کا رحمت ہونا منقطع ہو گیا جبکہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں مطلق طور پر تمام جہانوں کے لئے رحمت ہونا بیان فرمایااسی وجہ سے عالمین پر اپ کی رحمت کبھی منقطع نہ ہو گی دنیا میں کبھی اپ کا دین منسوخ نہ ہو گا اور اخرت میں ساری مخلوق یہاں تک کہ (حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اور) حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شفاعت کے محتاج ہوں گے۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۷ ۵ / ۵۲۸)