Surah Al Anbiya Ayat 109 (21:109)
The Prophets · Juz 17 · Makki
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ 109
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو: میں نے تمہیں برابری کی بنیاد پر خبردار کردیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ تمہیں جو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اگر وہ منہ پھیریں تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا برابری پر اور میں کیا جانوں کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فان تولوا:پھر اگر وہ منہ پھیریں ۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ پھر اگر وہ کفار اسلام قبول کرنے سے منہ پھیریں تو اپ ان سے فرما دیں کہ میں نے تم سے لڑائی کا اعلان کر دیا ہے اور اس سے متعلق جاننے میں ہم اور تم برابر ہیں لیکن میں نہیں جانتا کہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے تم سے جنگ کرنے کی اجازت کب ملے گی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پھر اگر وہ کفار منہ پھیریں اور اسلام نہ لائیں تو اپ ان سے فرما دیں : اللہ تعالی کی وحدانیت سے متعلق جس چیز کا مجھے حکم دیا گیا میں نے تمہیں برابری کی بنیاد پر ا س کے بارے میں خبردار کردیا ہے اور رسالت کی تبلیغ کرنے اور نصیحت کرنے میں تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے اور میں اللہ تعالی کے بتائے بغیر نہیں جانتا کہ تمہیں عذاب یا قیامت کاجو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے۔(تفسیرکبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۹ ۸ / ۱۹۵ روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۹ ۵ / ۵۳۰ جلالین الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۹ ص۲۷۸ ملتقطا) {و ان ادری:اور میں نہیں جانتا ۔} ایت کے اس حصے کے بارے میں صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے خزائن العرفان میں جو کلام فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں درایت کی نفی فرمائی گئی ہے۔ درایت ’’اندازے اور قیاس سے جاننے ‘‘کو کہتے ہیں جیسا کہ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مفردات امام راغب میں اور علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ردالمحتار میں ذکر کیا ہے اور قرآن کریم کے اطلاقات اس پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا: ’’ ما كنت تدری ما الكتب و لا الایمان‘‘(شوری:۵۲) (ترجمہ کنزالعرفان: اس سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے نہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو۔) اسی لئے اللہ تعالی کے لئے درایت کالفظ استعمال نہیں کیا جاتا لہذا یہاں اللہ تعالی کے بتائے بغیر محض اپنی عقل اور قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ مطلق علم کی اور مطلق علم کی نفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اسی رکوع کے شروع میں آ چکا ہے ’’و اقترب الوعد الحق‘‘یعنی اور سچا وعدہ قریب اگیا۔ تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وعدے کا قریب اور دور ہونا کسی طرح معلوم نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں اپنی عقل اور قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ اللہ تعالی کے بتانے سے جاننے کی نفی ہے۔(خزائن العرفان الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۹ ص۶۱۷)