Surah Al Anbiya Ayat 20 (21:20)
The Prophets · Juz 17 · Makki
یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ 20
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariرات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ،وہ سستی نہیں کرتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanرات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور سستی نہیں کرتے ۔
Tafseer (Urdu)
{یسبحون الیل و النهار:رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔}یعنی فرشتے ہر وقت اللہ تعالی کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور اس میں وہ کسی طرح کی سستی نہیں کرتے۔(خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۲۰ ۳ / ۲۷۳) فرشتوں کی تسبیح کی کیفیت: علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’فرشتوں کے لئے تسبیح ایسے ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا تو جس طرح ہمارا کھڑ ا ہونا بیٹھناکلام کرنا اور دیگر کاموں میں مصروف ہونا ہمیں سانس لینے سے مانع نہیں ہوتا اسی طرح فرشتوں کے کام انہیں تسبیح سے مانع نہیں ہوتے۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۲۰ ۵ / ۴۶۲) اور دلیل کے طور پر اپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یہ روایت ذکر فرمائی کہ حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے اس ایت کے بارے میں پوچھا کہ کیا فرشتے پیغام رسانی میں مصروف نہیں ہوتے کیا وہ دیگر کاموں میں مشغول نہیں ہوتے (اورجب وہ ان چیزوں میں مصروف ہوتے ہیں تو پھر ہر وقت وہ تسبیح کس طرح کرتے ہیں ) حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’ فرشتوں کے لیے تسبیح کو ایسے بنایا گیا ہے جیسے تمہارے لیے سانس بنائی گئی ہے ۔کیا اپ کھاتے پیتے اتے جاتے اور بولتے وقت سانس نہیں لے رہے ہوتے بالکل یہی کیفیت ان کی تسبیح کی ہے۔(شعب الایمان الثالث من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی معرفۃ الملائکۃ ۱ / ۱۷۸ روایت نمبر: ۱۶۱) قرب و شرف رکھنے والوں کا وصف: علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس ایت کے تحت فرماتے ہیں ’’فرشتوں کے بارے میں یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں کو اللہ تعالی کی اطاعت و عبادت کرنے پر ابھارنا اور کافروں کو اللہ تعالی کی اطاعت وعبادت ترک کرنے پر شرم دلانا ہے کیونکہ عبادت اور تسبیح کرنا قرب اور شرف رکھنے والے لوگوں کا وصف ہے اور اسے چھوڑ دینا ( اللہ تعالی کی رحمت سے )دور ہونے والے اور ذلیل لوگوں کا شیوہ ہے۔(تفسیر صاوی الانبیاء تحت الایۃ: ۲۰ ۴ / ۱۲۹۴) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ کے مقرب بندوں کے طریقے پر چلتے ہوئے اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی اطاعت کرنے میں مصروف رہے اور اس سلسلے میں کسی طرح کی شرم وعار محسوس نہ کرے ۔