Surah Al Anbiya Ayat 3 (21:3)
The Prophets · Juz 17 · Makki
لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۚ-اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مَشْوَرَت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر۔
Tafseer (Urdu)
{لاهیة قلوبهم:ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں ۔} دل کھیل میں پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی یاد سے غافل ہیں اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جو دل دنیا کے احوال میں مشغول اور اخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں پڑ اہوا ہے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۲۷۱ روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۳ ۵ / ۴۵۲ ملتقطا) { و اسروا النجوى ﳓ الذین ظلموا:اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ کافروں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا اور اسے چھپانے میں بہت مبالغہ کیا مگر اللہ تعالی نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں یوں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے جیسے ایک ادمی ہی تو ہیں ۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۲۷۱) یہ کفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا۔ کفار یہ بات کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں جمے گی نہیں کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں وہ کس طرح باور کر سکیں گے کہ حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہماری طرح بشر ہیں اس لئے انہوں نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا کہ کیا تم خود دیکھنے اور جاننے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو