Surah Al Anbiya Ayat 34 (21:34)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَؕ-اَفَاۡىٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے (دنیا میں ) ہمیشہ رہنا نہ بنایا تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ دوسرے لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما جعلنا لبشر من قبلك الخلد:اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے ہمیشہ رہنا نہ بنایا۔} گزشتہ ایات میں اللہ عزوجل نے اپنے قادرمطلق ہونے کی نشانیاں بیان فرمائیں اور اسی کے تحت اپنی نعمتوں کابھی بیان فرمایا اب ان ایات میں بتایا جارہا ہے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور اس میں ہرچیز کوفنا ہونا ہے لہذا اس میں دل نہ لگاؤ اور نہ ہی اس دنیا کے عجائب وغرائب اور اس کی ارائشوں پرجان ودل سے قربان ہوجاؤ بلکہ اللہ عزوجل نے تویہ چیزیں تمہاری ازمائش کے لیے پیدا کی ہیں لہذا اپنی ابدی زندگی پر نظر رکھتے ہوئے اسی کی تیاری کرو۔ شان نزول: رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دشمن اپنی گمراہی اوردشمنی کی وجہ سے کہتے تھے کہ ہم حوادث زمانہ کا انتظار کررہے ہیں عنقریب ایسا وقت آنے والاہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی وفات ہوجائے گی ۔اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ دشمنان رسول کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کیونکہ ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں رکھی۔ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا اگر اپ انتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے اور انہیں موت کے پنجے سے رہائی مل جائے گی جب ایسا نہیں ہے تو پھر وہ کس بات پر خوش ہوتے ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔(خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳۴-۳۵ ۳ / ۲۷۶)