Surah Al Anbiya Ayat 35 (21:35)
The Prophets · Juz 17 · Makki
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةًؕ-وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ 35
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں خوب آزماتے ہیں اور ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے جانچنے کو اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و نبلوكم بالشر و الخیر فتنة:اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں خوب ازماتے ہیں ۔} یعنی ہم تمہیں راحت و تکلیف تندرستی و بیماری دولت مندی و ناداری نفع اور نقصان کے ذریعے ازماتے ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و شکر میں تمہارا کیا درجہ ہے اور بالاخر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاو گے اورہم تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں گے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳۵ ۳ / ۲۷۶) مصیبت انے پر صبر اور نعمت ملنے پر شکر کرنے کی ترغیب: ا س سے معلوم ہو اکہ بعض اوقات مصیبت نازل کر کے یا نعمت عطا کر کے بندے کواس بات میں ازمایا جاتا ہے کہ وہ مصیبت انے پر کتنا صبر کرتا اور نعمت ملنے پر کتنا شکر کرتا ہےلہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ جب وہ محتاجی یا بیماری وغیرہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو شکوہ شکایت نہ کرے بلکہ اس میں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہے اور جب اسے مالداری اور صحت وغیرہ کوئی نعمت ملے تو وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرے ۔ ترغیب کے لئے یہاں مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر کرنے سے متعلق 4احادیث ملاحظہ ہوں ۔ (1)…حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جو صبر کرنا چاہے گا اللہ تعالی اسے صبر کی توفیق عطا فرمادے گا اور صبر سے بہتر اور وسعت والی عطا کسی پر نہیں کی گئی۔( مسلم کتاب الزکاۃ باب فضل التعفف والصبر ص۵۲۴ الحدیث: ۱۲۴(۱۰۵۳)) (2)…حضر ت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بے شک زیادہ اجر سخت آزمائش پر ہی ہے اور اللہ تعالی جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے تو جو اس کی قضا پر راضی ہو اس کے لئے رضا ہے اور جوناراض ہو اس کے لئے ناراضی ہے۔(ابن ماجہ کتاب الفتن باب الصبر علی البلاء ۴ / ۳۷۴ الحدیث: ۴۰۳۱) (3)…حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روا یت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جسے چار چیزیں عطا کی گئیں اسے دنیا و اخرت کی بھلائی عطا کی گئی :(۱) شکر کرنے والا دل۔ (۲) اللہ تعالی کا ذکر کرنے والی زبان۔ (۳) مصیبت پر صبر کرنے والا بدن۔ (۴) اس کے مال اور عزت میں خیانت نہ کرنے والی بیوی۔( معجم الکبیر طلق بن حبیب عن ابن عباس ۱۱ / ۱۳۴ الحدیث: ۱۱۲۷۵) (4)…حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالی کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر کامطالبہ فرماتا ہے اگر وہ اس کا شکر کریں تو اللہ تعالی انہیں زیادہ دینے پر قادر ہے اور اگر وہ ناشکری کریں تووہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنی نعمت کو ان پر عذاب سے بدل دے۔(شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۲۷ روایت نمبر: ۴۵۳۶)