Surah Al Anbiya Ayat 49 (21:49)
The Prophets · Juz 17 · Makki
الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں اوروہ قیامت سے ڈرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور انہیں قیامت کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الذین یخشون ربهم بالغیب:وہ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا: پرہیز گار لوگوں کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہیں حالانکہ انہوں نے ا س کے عذاب کا مشاہدہ نہیں کیا اوروہ قیامت کے دن ہونے والے عذاب حساب سوال اور اس کی دیگر ہولناکیوں سے ڈرتے ہیں اور اسی خوف کے سبب وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے سے بچتے ہیں ۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۴۹ ۵ / ۴۸۸ مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۴۹ ص۷۱۸ تفسیرکبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۴۹ ۸ / ۱۵۱ ملتقطا) بن دیکھے اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کی فضیلت: وہ لوگ جو بن دیکھے اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں ان کی فضیلت سے متعلق قران مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ من خشی الرحمن بالغیب و جآء بقلب منیبﹰ(۳۳)ادخلوها بسلم-ذلك یوم الخلود‘‘(ق: ۳۳۳۴) ترجمہ کنزالعرفان: جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ اتا ہے ۔(ان سے فرمایا جائے گا) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ اور دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے: ’’ ان الذین یخشون ربهم بالغیب لهم مغفرة و اجر كبیر‘‘(ملک: ۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے رب سےڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے : میری عزت و جلال اور مخلوق پر میری بلندی کی قسم! نہ تومیں اپنے بندے پردوخوف جمع کروں گااورنہ اس کے لیے دوامن جمع کروں گاجودنیامیں مجھ سے ڈرتا رہا اسے میں قیامت کے دن امن دوں گا اور جو دنیا میں مجھ سے بے خوف رہا اسے میں قیامت کے دن خوف میں مبتلا کر دوں گا۔( ابن عساکر محمد بن علی بن الحسن بن ابی المضاء۔۔۔ الخ ۵۴ / ۲۶۷) دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے پرہیز گار بندوں میں شامل فرمائے دنیا میں ہمیں اپنا خوف نصیب کرے اور اخرت میں خوف سے محفوظ فرمائے امین۔