Surah Al Hajj Ayat 11 (22:11)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍۚ- فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ ﰳاطْمَاَنَّ بِهٖۚ- وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ-ﰳانْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ۫ۚ -خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتاہے پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچے تو وہ اس پرمطمئن ہوجاتاہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو منہ کے بل پلٹ جاتا ہے۔ ایسا آدمی دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔یہی کھلا نقصان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی بن گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آ پڑی منہ کے بل پلٹ گئے دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صریح نقصان۔
Tafseer (Urdu)
{و من الناس من یعبد الله على حرف:اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتا ہے۔} شان نزول:یہ آ یت دیہات میں رہنے والے عربوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو اطراف سے آ کر مدینہ میں داخل ہوتے اور اسلام لاتے تھے ان کی حالت یہ تھی کہ اگر وہ خوب تندرست رہے اور ان کی دولت بڑھی اور ان کے ہاں بیٹا ہوا تب تو کہتے تھے کہ اسلام اچھا دین ہے اس میں آ کر ہمیں فائدہ ہوا اور اگر کوئی بات اپنی امید کے خلاف پیش آئی مثلا بیمار ہو گئے یا ان کے ہاں لڑکی پیداہو گئی یا مال کی کمی ہوئی تو کہتے تھے :جب سے ہم اس دین میں داخل ہوئے ہیں ہمیں نقصان ہی ہوا اور اس کے بعد دین سے پھر جاتے تھے ۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں ابھی دین میں ثابت قدمی حاصل ہی نہیں ہوئی اور یہ دین کے معاملے میں اس طرح شک و تردد میں رہتے ہیں جس طرح پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوا شخص حرکت کی حالت میں ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی ازمائش اجائے اور کسی قسم کی سختی پیش ائے تو مرتد ہو کر منہ کے بل پلٹ جاتے اور کفر کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتے ہیں ۔ دنیا کا نقصان تو یہ ہے کہ جو ان کی امیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوئیں اور مرتد ہو جانے کی وجہ سے ان کا خون مباح ہوا اور آخرت کا نقصان ہمیشہ کا عذاب ہے اوریہی کھلا نقصان ہے۔(خازن الحج تحت الایۃ: ۱۱ ۳ / ۳۰۰-۳۰۱ مدارک الحج تحت الایۃ: ۱۱ ص۷۳۳ ملتقطا) دین اسلام دنیوی منفعت کی وجہ سے نہیں بلکہ حق سمجھ کر قبول کیا جائے: اس سے معلوم ہواکہ انسان دین اسلام کوحق سمجھ کرقبول کرے اور پھر اس پرڈٹ جائے چاہے نفع ہو یا نقصان ہرحال میں خوش رہے اور اللہ عزوجل کاشکرا دا کرتا رہے کہ اس نے اسے اسلام جیسی عظیم لازوال دولت سے نوازا۔ اسی طرح نماز و عبادت وغیرہ کو دنیوی نفع ونقصان کے ساتھ نہ تولا جائے بلکہ عبادت کی حیثیت ہی سے کیا جائے۔