Surah Al Hajj Ayat 16 (22:16)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو روشن آیتوں کی صورت میں نازل فرمایااور یہ کہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بات یہی ہے کہ ہم نے یہ قرآن اُتارا روشن آیتیں اور یہ کہ اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہے۔
Tafseer (Urdu)
{و كذلك:اور اسی طرح۔} یعنی اللہ تعالی نے قران مجید میں ایسے دلائل نازل فرمائے جن میں کچھ ابہام نہیں اور جو شخص ان میں غور کرے اس شخص پرحق واضح ہوجائے نیزاس پر عقیدہ توحید قیامت اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت واضح ہو جائے اور دلائل خواہ کتنے ہی واضح اورروشن کیوں نہ ہوں ہدایت اسے ہی ملتی ہے جس کے لئے اللہ تعالی چاہتاہے ۔ ہدایت حاصل ہونے کا ایک عظیم ذریعہ: اس ایت سے معلوم ہو اکہ قران عظیم ہدایت ملنے ہدایت پر ثابت قدمی عطا ہونے اور ہدایت میں اضافے کا ایک عظیم ترین ذریعہ ہے اور قران مجید سیکھنے میں مشغول ہونا اور اس کے دئیے ہوئے احکامات پر عمل کرنا ہدایت کی علامات میں سے ایک علامت ہے لہذا جسے اللہ تعالی نے قران مجید پر ایمان لانے کی توفیق دی ہے اسے چاہئے کہ وہ قران کریم صحیح طریقے سے پڑھنا سیکھے اسے سمجھنے کی کوشش کرے اس میں دئیے گئے تمام احکامات پر عمل کرے اور جن کاموں سے منع کیا گیا ان سے باز رہے تاکہ اسے ہدایت پر ثابت قدمی نصیب ہو اور اس کی ہدایت میں مزید اضافہ بھی ہو۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی اس قرآن کے ذریعے کچھ قوموں کو سر بلند کرے گا اور کچھ کو گرادے گا۔( مسلمکتاب صلاۃالمسافرین وقصرہاباب فضل من یقوم بالقران ویعلمہ۔۔۔الخص۴۰۷الحدیث:۲۶۹(۸۱۷)) علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’وہ لوگ جو قران کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا انہیں اللہ تعالی سر بلند کرے گا اور جنہوں نے قران عظیم پر ایمان لانے سے اعراض کیا اور اس کے احکامات پر عمل نہ کیا انہیں اللہ تعالی گرا دے گا۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۱۶ ۶ / ۱۴) قران مجید کے سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا حال یہ تھا کہ وہ قران کریم کی دس ایتیں سیکھتے اور اس وقت تک دوسری ایات سیکھنے کی طرف متوجہ نہ ہوتے جب تک ان دس ایتوں کے تمام تقاضوں پر عمل نہ کر لیتے یونہی وہ انتہائی تنگدستی کے باوجود قران عظیم سننے سنانے اور اس کی ایات میں غوروفکر کرنے میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میں غریب مہاجرین کی ایک جماعت میں جا بیٹھا جو نیم برہنہ ہونے کے باعث ایک دوسرے سے بمشکل اپنا ستر چھپاتے تھے ۔ ہم میں ایک قاری صاحب قران مجید پڑھ رہے تھے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لے ائے جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے پاس کھڑے ہوئے تو قاری صاحب خاموش ہو گئے ۔ اپ نے سلام کیا اور ارشاد فرمایا ’’تم کیا کر رہے ہو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ ہمیں قران سنا رہے ہیں اور ہم غور سے اللہ تعالی کی کتاب کو سن رہے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ بھی شامل فرمائے جن کے ساتھ ٹھہرے رہنے کا مجھے بھی حکم دیاگیا ہے۔( ابوداود کتاب العلم باب فی القصص ۳ / ۴۵۲ الحدیث: ۳۶۶۶) اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو قران مجید کے احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے امین۔