Surah Al Hajj Ayat 15 (22:15)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا تو اسے چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی دراز کرلے پھر اپنے آپ کو پھانسی دیدے پھر دیکھے کہ کیا اس کے داؤپیچ نے وہ چیز مٹادی جس پر اسے غصہ آتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد نہ فرمائے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسّی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ دانؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے۔
Tafseer (Urdu)
{من كان یظن:جو یہ خیال کرتا ہے۔} اس ایت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور اپ کے دین کی مخالفت کرنے اور ان سے دشمنی رکھنے والوں کی ناکامی اور محرومی کو بیان کیا گیا ہے چنانچہ اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالی دنیا میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دین کو غلبہ عطا فرما کر اور اخرت میں ان کے درجے بلند فرما کر ان کی مدد نہیں فرمائے گالیکن اس کا خیال غلط ثابت ہوتا ہے اور وہ یوں غصے میں اجاتا ہے تو اسے چاہیے کہ غصہ دلانے والی چیز کو ختم کرنے کیلئے ہر طرح کی کوشش کرلے حتی کہ گھر میں چھت سے رسی باند ھ کراپنے اپ کو پھانسی دے لے پھر اس بات پر غور کرے کہ کیا اس کی کوئی تدبیر اللہ تعالی کی وہ مدد روک سکتی ہے جس پر اسے غصہ اتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالی دنیا اور اخرت میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے دین کا مدد گار ہے اور ان کے حاسدین اور دشمنوں میں سے جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالی دنیا اور اخرت میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے دین کی مدد نہیں فرمائے گاپھر اپنامطلب پورا نہ ہونے کی وجہ سے وہ جل بھن گیا تو اسے چاہئے کہ کسی طرح اسمان تک پہنچ کراس مدد کو موقوف کروا دے جو ا س کے غیظ و غضب کا باعث ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی کر ہی نہیں سکتا تو اس کا غضب میں انا اور غصہ کرنا بیکار ہے۔( تفسیرکبیرالحج تحت الایۃ: ۱۵ ۸ / ۲۱۰-۲۱۱ ابوسعود الحج تحت الایۃ: ۱۵ ۴ / ۱۱ البحر المحیط الحج تحت الایۃ: ۱۵ ۶ / ۳۳۲ ملتقطا) اللہ تعالی مسلمانوں کا مددگار ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی عاجزہر گز نہیں بلکہ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور اپنے محبوب بندوں کی مدد فرماتا ہے ۔یاد رہے کہ کفار دین اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اس کے نور کو بجھانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے سچے غلاموں کی مدد فرمائیکفار کو نیست و نابود کیا اور ان کے لشکروں کو شکست و ہزیمت سے دوچار کر دیااسی طرح اج بھی کفار دین اسلام کو ختم کرنے کے ناپاک عزائم اور ارادے رکھتے ہیں اور ا س کے لئے ہر طرح کے ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ تمام تر کوششیں اسلام کو مٹا نہیں سکتیں کیونکہ اللہ تعالی دین اسلام اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے غلاموں کا مددگار ہے البتہ مسلمانوں کو چاہئے کہ جب وہ کفار کی طرف سے کسی مشکل میں گرفتار ہو جائیں اور اللہ تعالی کی طرف سے فوری طور پر انہیں مدد نہ پہنچے تو وہ اللہ تعالی کی رضاپر راضی رہیں اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کریں کیونکہ حق غالب رہے گا کبھی مغلوب نہ ہو گا اور اللہ تعالی نے چاہا تو عنقریب مسلمانوں سے یہ مشکلات دور ہو جائیں گی اور کفار و مشرکین کی راحتیں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔