Surah Al Hajj Ayat 19 (22:19)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ٘-فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍؕ-یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونتے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{هذن خصمن:یہ دو فریق ہیں ۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مومنین اور پانچوں قسم کے کفار جن کا اوپر ذکر کیا گیا یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب عزوجل کے دین اور ا س کی ذات و صفات کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو وہ لوگ جو کافر ہیں انہیں ہر طرف سے اگ گھیر لے گی اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں چربی وغیرہ ہے وہ سب اور ان کی کھالیں جل جائیں گی۔(جلالین الحج تحت الایۃ: ۱۹-۲۰ ص۲۸۱) جہنم میں کفار پر ڈالے جانے والے پانی کی کیفیت: جہنم میں کفار پر ڈالے جانے والے پانی کی کچھ کیفیت ان ایات میں بیان ہوئی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا’’انتہائی گرم پانی ان جہنمیوں کے سر پر ڈالا جائے گا تو وہ سرایت کرتے کرتے ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا اور جو کچھ پیٹ میں ہو گا اسے کاٹ کر قدموں سے نکل جائے گا اور یہ صہر (یعنی گل جانا) ہے پھر انہیں ویسا ہی کر دیا جائے گا (اور بار بار ان کے ساتھ ایساہی کیا جائے گا۔)( سنن ترمذی کتاب صفۃ جہنم باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار ۴ / ۲۶۲ الحدیث: ۲۵۹۱) اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا ’’کافروں پر ڈالا جانے والا پانی ایسا تیز گرم ہو گا کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر ڈال دیا جائے تو ان کو گلا ڈالے۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۱۹ ص۷۳۵) اللہ تعالی ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں جہنم کے ا س عذاب سے پناہ عطا فرمائےامین۔