Surah Al Hajj Ayat 2 (22:2)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یوم ترونها:جس دن تم اسے دیکھو گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالی کے عذاب کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللہ تعالی کا عذاب بڑا شدید ہے۔( خازن الحج تحت الایۃ: ۲ ۳ / ۲۹۸) قیامت کے ذکر سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا حال: بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں ایات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ پر نم اور فکر مند تھے۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۲ ۶ / ۳) یہ ان ہستیوں کا حال ہے جن سے اللہ تعالی نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور ان میں سے بعض کو دنیا میں ہی زبان رسالت سے جنت کی بشارت مل چکی ہے تو ہمیں قیامت کی شدتہیبتہولناکی اور سختی سے تو کہیں زیادہ ڈرنا چاہئے کیونکہ ہمارے ساتھ نہ تو کوئی ایسا وعدہ فرمایا گیا ہے جیسا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ فرمایا گیا اور نہ ہی دنیا میں ہمیں جنت کی قطعی بشارت مل چکی ہے لیکن افسوس! فی زمانہ قیامت سے لوگوں کی غفلت انتہائی عروج پر نظر ا رہی ہے اور نجانے کس امید پر وہ قیامت کے بارے میں بے فکر ہیں ۔ امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اے مسکین! جس دن کی یہ عظمت ہے وہ اس قدر بڑا ہے حاکم زبردست اور زمانہ قریب ہے تو تواس دن کے لیے تیاری کر لے جس دن تو دیکھے گا کہ آسمان پھٹ گئے اس کے خوف سے ستارے جھڑگئے روشن ستاروں کی چمک ماند پڑگئی سورج کی روشنی لپیٹ دی گئی پہاڑ چلنے لگے پانی لانے والی اونٹنیاں کھلی پھرنے لگیں جنگلی جانور جمع ہوگئے سمندر ابلنے لگے روحیں بدنوں سے جاملیں جہنم کی آگ بھڑکائی گئی جنت قریب لائی گئی پہاڑ اڑائے گئے اور زمین پھیلائی گئی اور جس دن تم دیکھو گے کہ زمین میں زلزلہ برپا ہوگا زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی اور لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے تاکہ اپنے اعمال (کابدلہ) دیکھیں اور جس دن زمین اور پہاڑ اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے اس دن عظیم واقعہ رونما ہوگا اور آسمان پھٹ جائیں گے حتی کہ ان کی بنیادیں کمزور پڑجائیں گی فرشتے ان کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن تمہارے رب عزوجل کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہوگا اس دن تم سب کو پیش ہونا ہوگا اور تم سے کوئی بھی بات پوشیدہ نہ ہو گی جس دن پہاڑ چلیں گے اور تم زمین کو کھلی ہوئی دیکھو گے جس دن زمین کانپے گی اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے والی گرد بن جائیں گے جس دن انسان بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے اس دن ہر دودھ پلانے والی دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی اور ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے لیکن اللہ تعالی کا عذاب سخت ہوگا۔ جس دن یہ زمین و آسمان دوسری زمین میں بدل جائیں گے اور اللہ تعالی واحد و قہار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جس دن پہاڑ اڑا کر بکھیر دیئے جائیں گے اور صاف زمین باقی رہ جائے گی اس میں کوئی ٹیڑھا راستہ (موڑ وغیرہ) اور ٹیلے نہیں ہوں گے جس دن تم پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھو گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے جس دن آسمان پھٹ کر گلابی لال چمڑے کی طرح ہوجائیں گے اور اس دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ اس دن گناہ گار کو بولنے سے روک دیا جائے گا اور نہ ہی اس کے جرموں کے بارے میں پوچھا جائے گا بلکہ پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے گرفت ہوگی جس دن ہر شخص اپنے اچھے عمل کو سامنے پائے گا اور برے عمل کو بھی اور وہ چاہے گا کہ اس برے عمل اور اس (شخص) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہو۔ جس دن ہر نفس اس چیز کو جان لے گا جو وہ لایا ہوگا اور جو آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا وہ سب حاضر ہوگا۔ جس دن زبانیں گنگ ہوں گی اور باقی اعضاء بولیں گے یہ وہ عظیم دن ہے جس کے ذکر نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بوڑھا کردیا ۔ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آپ پر بڑھاپے کے اثار ظاہر ہوگئے ہیں تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سورہ ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔‘‘ اور وہ دوسری سورتیں سورہ واقعہ سورہ مرسلات سورہ عم یتسآءلون اوراذا الشمس كورت(وغیرہ) ہیں ۔تو اے قرآن پڑھنے والے عاجز انسان! تیرا قران مجید پڑھنے سے صرف اتنا حصہ ہے کہ تو اس کے ساتھ زبان کو حرکت دے دے اگر تو قران مجید میں جو کچھ پڑھتا ہے اس میں غور و فکر کرتا تو اس لائق تھا کہ ان باتوں سے تیرا کلیجہ پھٹ جاتا جن باتوں نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بوڑھا کردیا تھا اگر تم صرف زبان کی حرکت پر قناعت کرو گے تو قران مجید کے ثمرے سے محروم رہو گے۔(احیاء علوم الدین کتاب ذکر الموت ومابعدہ الشطر الثانی صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ ۵ / ۲۷۴-۲۷۵) اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو صحیح طریقے سے قران مجید کی تلاوت کرنے اور اس میں مذکور ڈرانے والی باتوں پر غوروفکر کرنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنی کی توفیق عطا فرمائےامین۔