Surah Al Hajj Ayat 23 (22:23)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًاؕ-وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اللہ ایمان والوں کو اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور جنتوں میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الله یدخل الذین امنوا:بیشک اللہ ایمان والوں کو داخل فرمائے گا ۔}اس سے پہلی ایات میں کفار کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا اور اب یہاں سے قیامت کے دن ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر ہونے والے انعامات بیان کئے جا رہے ہیںچنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ تعالی ایمان والوں کو اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور ایسے موتی پہنائے جائیں گے جن کی چمک مشرق سےمغرب تک روشن کر ڈالے گی اور جنتوں میں ان کا لباس ریشم ہوگا جسے پہننا دنیا میں مردوں پر حرام ہے۔( خازن الحج تحت الایۃ: ۲۳ ۳ / ۳۰۴ ملتقطا) ایت میں بیان کی گئی جنتی نعمتوں سے متعلق3 احادیث: اس ایت میں جنت کی جن نعمتوں کے بارے میں بیان ہوا ان سے متعلق 3 احادیث ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت حکیم بن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں پانی کا دریاشہد کا دریادودھ کا دریا اور شراب کا دریا ہے پھر ان سے نہریں نکلتی ہیں۔(ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ باب ما جاء فی صفۃ انہار الجنۃ ۴ / ۲۵۷ الحدیث: ۲۵۸۰) (2)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کے اعضا میں وہاں تک زیور پہنایاجائے گاجہاں تک اس کے وضوکوپانی پہنچے گا۔(مسلم کتاب الطہارۃ باب تبلغ الحلیۃ حیث یبلغ الوضوءص۱۵۱ الحدیث: ۴۰(۲۵۰)) (3)…حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جنتیوں کے سر پر تاج ہوں گے اور ان تاجوں کا ادنی موتی مشرق سے مغرب تک کو روشن کر دے گا۔( ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ باب ما جاء لادنی اہل الجنۃ من الکرامۃ ۴ / ۲۵۳ الحدیث: ۲۵۷۱) مردوں کے لئے ریشم پہننے کی وعیدیں : احادیث میں ریشم پہننے والے مردکے لئے سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں : (1)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا لے کر ارشاد فرمایا ’’بے شک یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔( ابو داود کتاب اللباس باب فی الحریر للنساء ۴ / ۷۱ الحدیث: ۴۰۵۷) (2)…حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اخرت میں ریشم نہیں پہنے گا۔( بخاری کتاب اللباس باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال۔۔۔ الخ ۴ / ۵۹ الحدیث: ۵۸۳۲) (3)…حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ریشم وہ پہنے گا جس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ۔(مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم استعمال اناء الذہب والفضۃ۔۔۔ الخ ص۱۱۴۵ الحدیث: ۷(۲۰۶۸)) (4)…حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ’’جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ جنت میں نہ جائے گا۔(سنن الکبری للنساء کتاب الزینۃ لبس الحریر ۵ / ۴۶۵ الحدیث: ۹۵۸۵) (5)…حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے ریشم کا لباس پہنا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اگ کا کپڑا پہنائے گا۔( مسندامام احمدحدیث جویریۃ بنت الحارث بن ابی ضرار زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم۱۰ / ۲۳۱الحدیث:۲۶۸۱۹) {و هدوا الى الطیب من القول:اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت دی گئی۔}اس ایت میں پاکیزہ بات سے کلمہ توحید مراد ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے قران مجید مراد ہے اور صراط حمید سے مراد اللہ تعالی کا دین اسلام ہے۔( خازن الحج تحت الایۃ: ۲۴ ۳ / ۳۰۴)