Surah Al Hajj Ayat 31 (22:31)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariایک اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے (بتوں سے دور رہو) اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور کی جگہ پھینک دیتی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اُسے اُچک لے جاتے ہیں یا ہوا اُسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{حنفآء لله:ایک اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر۔} یعنی اے لوگو! تم ایک اللہ تعالی کی رضا کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے بتوں کی گندگی سے دور رہو۔ {و من یشرك بالله فكانما خر من السمآء:اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا۔} اس ایت میں ایک انتہائی نفیس تشبیہ سے شرک کا برا انجام سمجھایا گیا ہے اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص انتہائی بلندی سے زمین پر گر پڑے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ پرندے اس کی بوٹی بوٹی نوچ کر لے جاتے ہیں یا پھر ہوا اس کے اعضا کو دور کسی وادی میں پھینک دیتی ہے اور یہ ہلاکت کی ایک بد ترین صورت ہے۔ اسی طرح جو شخص ایمان ترک کر کے اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرتا ہے تو وہ ایمان کی بلندی سے کفر کی وادی میں گر پڑتا ہے پھر بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کی طرح نفسانی خواہشات اس کی فکروں کو منتشر کر دیتی ہیں یا ہوا کی طرح انے والے شیطانی وسوسے اسے گمراہی کی وادی میں پھینک دیتے ہیں اور یوں شرک کرنے والا اپنے اپ کو بد ترین ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔( ابو سعود الحج تحت الایۃ: ۳۱ ۴ / ۱۸ ملخصا) ایمان کی اہمیت: اس ایت سے معلوم ہوا کہ ایمان ایسی عظیم چیز ہے جسے اختیار کرنے والا عزت و عظمت کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے اور ایمان کو ترک کرنے والا اور دین اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کو اختیار کر لینے والا خود کو بد ترین ہلاکت میں ڈال دیتا ہے کیونکہ اگر یہ مرتد ہونے والا صحیح توبہ کئے بغیر اسی کفر کی حالت میں مر گیا تو اسے ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا چنانچہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’و من یرتدد منكم عن دینه فیمت و هو كافر فاولىك حبطت اعمالهم فی الدنیا و الاخرة- و اولىك اصحب النار-هم فیها خلدون‘‘(بقرہ: ۲۱۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و اخرتمیں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ افسوس! فی زمانہ مسلمانوں میں ایمان کی قدر اور اہمیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور بعض مسلمان دنیا کا نفع دنیا کی سہولت و اسائش اور دنیا کا مال ودولت حاصل کرنے کی خاطراپنا ایمان ضائع کر دینے کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور چند ٹکوں کے لئے ایمان جیسی قیمتی ترین دولت لٹا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور انہیں اپنے ایمان کی قدر اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔