Surah Al Hajj Ayat 30 (22:30)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariحکمِ الٰہی یہ ہے اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے اور تمہارے لیے بے زبان چوپائے حلال کئے گئے سوائے ان کے جن کا (حرام ہونا) تمہارے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بے زبان چوپائے سوا اُن کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔
Tafseer (Urdu)
{ و من یعظم حرمت الله: اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے۔} اس ایت میں اللہ تعالی کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے جنہیں اللہ تعالی نے عزت و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اس کے لئے بہتر ہے کہ اس پر اللہ تعالی اسے اخرت میں ثواب عطا فرمائے گا۔( البحر المحیط الحج تحت الایۃ: ۳۰ ۶ / ۳۳۹ روح البیان الحج تحت الایۃ: ۳۰ ۶ / ۲۹ ملتقطا) اللہ تعالی کی حرمت والی چیزوں کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد اللہ تعالی کے احکام ہیں خواہ وہ حج کے مناسک ہوں یا ان کے علاوہ اور احکام ہوں اوران کی تعظیم سے مراد یہ ہے کہ جو کام کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا وہ کئے جائیں اورجن کاموں سے منع کیا انہیں نہ کیا جائے ۔ دوسراقول یہ ہے کہ یہاں حرمت والی چیزوں سے حج کے مناسک مراد ہیں اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ حج کے مناسک پورے کئے جائیں اور انہیں ان کے تمام حقوق کے ساتھ ادا کیا جائے ۔تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے وہ مقامات مراد ہیں جہاں حج کے مناسک ادا کئے جاتے ہیں جیسے بیت حرام مشعر حرام بلد حرام اور مسجد حرام وغیرہ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی جائے۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۳۰ ص۷۳۸ خازن الحج تحت الایۃ: ۳۰ ۳ / ۳۰۷ ملتقطا) مکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرنے والے کا انجام: حضرت عیاش بن ابو ربیعہ مخزومی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میری امت کے لوگ (تب تک) ہمیشہ بھلائی پر ہوں گے جب تک وہ مکہ کی تعظیم کاحق ادا کرتے رہیں گے اور جب وہ اس حق کوضائع کردیں گے توہلاک ہوجائیں گے۔( سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب فضل مکۃ ۳ / ۵۱۹ الحدیث: ۳۱۱۰) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں ’’تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جس بادشاہ نے کعبہ معظمہ یا حرم شریف کی بے حرمتی کی ہلاک و برباد ہوگیا یزید پلید کے زمانہ میں جب حرم شریف کی بے حرمتی ہوئی (تو) یزید ہلاک ہوا (اور) اس کی سلطنت ختم ہوگئی۔( مراۃ المناجیح باب حرم مکہ حرسہا اللہ تعالی تیسری فصل ۴ / ۲۴۲-۲۴۳ تحت الحدیث: ۲۶۰۵۔) اللہ تعالی کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کی جائے: اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں اور جن مقامات کو اللہ تعالی نے عزت و حرمت عطا کی ہے ان کی تعظیم کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والا نقصان اٹھاتا اور تباہ وبرباد ہو جاتا ہے لہذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے اور ان کی بے حرمتی کرنے سے بچے نیز جن ہستیوں کو اللہ تعالی نے اپنی بارگاہ میں قرب و شرف عطا فرما کر عزت و عظمت سے نوازا ہے جیسے انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہ موغیرہان کی اور ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی تعظیم کرے اور کسی طرح ان کی بے ادبی نہ کرے ۔ {و احلت لكم الانعام:اور تمہارے لیے تمام جانور حلال کئے گئے ۔} ایت کے اس حصے کا معنی یہ ہے کہ قران پاک میں جن جانوروں کا حرام ہونا تمہارے سامنے بیان کیا جاتاہے ان کے علاوہ تمام جانور تمہارے لئے حلال ہیں تم انہیں شرعی طریقے سے ذبح کر کے کھا سکتے ہو لہذا تم اللہ تعالی کی حدوں کی حفاظت کرو اور اس نے جو چیز حلال فرمائی اسے حرام قرار نہ دو جیساکہ بعض لوگ بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دیتے ہیں اسی طرح جس چیز کو اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے اسے حلال قرار نہ دو جیساکہ بعض لوگ دھاری دار چیز کی چوٹ کے بغیر مارے ہوئے اور مردہ جانور کا گوشت کھانے کو حلال کہتے ہیں ۔(مدارک الحج تحت الایۃ: ۳۰ ص۷۳۸) نوٹ: حرام جانوروں سے متعلق تفصیلی بیان سورہ مائدہ کی ایت نمبر 3 کی تفسیر میں گزر چکا ہے وہاں سے اس کا مطالعہ فرمائیں ۔ اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیهم کی طرف منسوب جانوروں کا شرعی حکم: یاد رہے کہ جن جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے اللہ تعالی کے نیک بندوں کی طرف منسوب کیا جائے اور انہیں ذبح شرعی طریقے کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی حلال ہیں اور قران و حدیث میں کہیں بھی ایسے جانوروں کا حرام ہونا بیان نہیں کیا گیا لہذا کسی شرعی دلیل کے بغیر انہیں حرام کہنا اور اس پر شرک کے فتوے لگانا ہر گز درست نہیں ۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’یایها الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل الله لكم و لا تعتدوا-ان الله لا یحب المعتدین(۸۷)و كلوا مما رزقكم الله حللا طیبا۪-و اتقوا الله الذی انتم به مؤمنون‘‘(مائدہ:۸۷ ۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو!ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاو اوراس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔ اور حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’حلال وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے۔( ترمذی کتاب اللباس باب ما جاء فی لبس الفراء ۳ / ۲۸۰ الحدیث: ۱۷۳۲) {فاجتنبوا الرجس من الاوثان:پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو۔} ارشاد فرمایا کہ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہوجن کی پوجا کرنا بدترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ یہاں جھوٹی بات سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اپنی طرف سے چیزوں کوحلال اور حرام کہنا ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی دینا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹ اور بہتان ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد دور جاہلیت میں تلبیہ میں ایسے الفاظ ذکر کرنا جن میں اللہ تعالی کے لئے شریک کا ذکر ہو۔( تفسیرکبیر الحج تحت الایۃ: ۳۰ ۸ / ۲۲۳) جھوٹی گواہی دینے اورجھوٹ بولنے کی مذمت پر4احادیث: ایت کی مناسبت سے یہاں جھوٹی گواہی دینے اورجھوٹ بولنے کی مذمت پر مشتمل4احادیث ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا ’’جھوٹی گواہی ہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی۔ پھر اس ایت کی تلاوت فرمائی: ’’فاجتنبوا الرجس من الاوثان و اجتنبوا قول الزور(۳۰) حنفآء لله غیر مشركین به‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ایک اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور)اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے ۔( ابو داود کتاب الاقضیۃ باب فی شہادۃ الزور ۳ / ۴۲۷ الحدیث: ۳۵۹۹) (2)… حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ کتاب الاحکام باب شہادۃ الزور ۳ / ۱۲۳ الحدیث: ۲۳۷۲) (3)…حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اس کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹی بات کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔(ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس ۴ / ۱۴۱ الحدیث: ۲۳۲۲) (4)… حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’اے لوگو! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ ایمان کے مخالف ہے۔(مسند امام احمد مسند ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ۱ / ۲۲ الحدیث: ۱۶)