Surah Al Hajj Ayat 38 (22:38)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ ٝ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اللہ مسلمانوں سے بلائیں دور کرتا ہے ۔ بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک اللہ بلائیں ٹالتا ہے مسلمانوں کی بیشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔
Tafseer (Urdu)
{ ان الله یدفع عن الذین امنوا: بیشک اللہ مسلمانوں سے بلائیں دور کرتا ہے ۔} مشرکوں نے حدیبیہ کے سال سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو حج کرنے سے روک دیاتھا اور جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم مکہ مکرمہ میں موجود تھے انہیں وہ طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دیا کرتے تھے چنانچہ حج کے لوازمات اور مناسک بیان فرمانے کے بعد ان ایات میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو یہ بشارت دی کہ بیشک اللہ تعالی مسلمانوں پر انے والی بلائیں ان سے دور کردے گا اور مشرکوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔(البحر المحیط الحج تحت الایۃ: ۳۸ ۶ / ۳۴۶) عزت ونصرت بالاخر مسلمانوں کے لئے ہے: علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اس ایت کے نزول کا سبب اگرچہ خاص ہے لیکن اعتبار الفاظ کے عموم کا ہے اس لئے مسلمان اگرچہ بلاوں اور مصیبتوں وغیرہ سے ازمائے جائیں بالاخر عزتنصرت اور بڑی کامیابی مسلمانوں کے لئے ہے اور یہ مصیبتیں ان کے گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔(صاوی الحج تحت الایۃ: ۳۸ ۴ / ۱۳۴۰-۱۳۴۱) خیال رہے کہ نیک اعمال کی برکت سے یا محبوب بندوں کے طفیل اور بارہامحض اپنے کرم سے اللہ تعالی دنیا میں بھی مسلمانوں سے بلائیں ٹالتا ہے اور اخرت میں بھی ٹالے گاجیسا کہ قرانی ایات اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ {ان الله لا یحب كل خوان كفور:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔}یعنی اللہ تعالی ان کفار کو پسند نہیں فرماتا جو اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں اور اللہ تعالی انہیں اس عمل پر سزا دے گا۔(جلالین الحج تحت الایۃ: ۳۸ ص۲۸۲ خازن الحج تحت الایۃ: ۳۸ ۳ / ۳۱۰ ملتقطا)