Surah Al Hajj Ayat 39 (22:39)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُﰳ 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجن سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{اذن:اجازت دیدی گئی ہے۔} شان نزول: کفار مکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو ہاتھ اور زبان سے شدید ایذائیں دیتے اور تکلیفیں پہنچاتے رہتے تھے اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس اس حال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سر پھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے اورکسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے۔ روزانہ اس قسم کی شکایتیں بارگاہ اقدس میں پہنچتی تھیں اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دربار میں کفار کے ظلم و ستم کی فریادیں کیا کرتے اور اپ یہ فرما دیا کرتے کہ’’ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کی طرف سے جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ تعالی ان مسلمانوں کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۳۹ ۶ / ۳۸)