Surah Al Hajj Ayat 4 (22:4)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس پر یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا تووہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے جہنم کے عذاب کی راہ بتائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے عذابِ دوزخ کی راہ بتائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{كتب علیه:جس پر یہ لکھ دیا گیا ہے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جنات اور انسانوں کے ہرسرکش شیطان کے متعلق لکھ دیاگیاہے کہ جو اس کی اطاعت اور ا س سے دوستی کرے گا تو شیطان ضرور اسے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کے عذاب کا راستہ بتائے گا۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ لوح محفوظ میں اس شخص کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے جو شیطان کی پیروی اور ا س سے دوستی کرے گا تو شیطان ضرور اسے جنت سے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کے عذاب کی راہ بتائے گا۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۴ ۶ / ۴-۵ تفسیرکبیر الحج تحت الایۃ: ۴ ۸ / ۲۰۲ ملتقطا) بدمذہبوں سے دوستی اور تعلقات رکھنے کی ممانعت: اس ایت سے معلوم ہواکہ بدمذہبوں سے دوستی اور تعلق نہیں رکھنا چاہئے اور نہ ہی ان کے ساتھ رشتہ داری قائم کرنی چاہئے کیونکہ یہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں ظاہری عبادت و ریاضت اور دکھلاوے کی پرہیز گاری کے ذریعے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں ۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ عنقریب میری امت کے اخر میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو تم سے ایسی باتیں کریں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہو گا اور نہ تمہارے باپ دادا نے تو تم ان سے دور رہنا اور انہیں (خود سے) دور رکھنا۔( مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ الخ ص۹ الحدیث: ۶(۶)) اسی کتاب کی دوسری روایت میں ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اخری زمانے میں دجال اور کذاب ظاہر ہوں گے وہ تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر ائیں گے جنہیں تم اور تمہارے باپ دادا نے نہ سنا ہو گا تو تم ان سے دور رہنا اور انہیں دور رکھنا کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔( مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ الخ ص۹ الحدیث: ۷(۷)) بد مذہبوں سے دور رہنے اور انہیں خود سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ متعدد احادیث میں ان سے زندگی اور موت کے تمام تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کے ساتھ پانی نہ پیو ان کے پاس نہ بیٹھو ان سے رشتہ نہ کرو وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤ مر جائیں تو ان کی میت کے پاس نہ جاؤ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھواور نہ ہی ان کے ساتھ نماز پڑھو۔(کنز العمال کتاب الفضائل الباب الثالث فی ذکر الصحابۃ وفضلہم۔۔۔الخ الفصل الاول ۶ / ۲۴۶ الجزء الحادی عشر الحدیث : ۳۲۵۲۵ ۳۲۵۲۶ تاریخ بغداد حرف الواو من اباء الحسینین ۴۲۴۰- الحسین بن الولید ۔۔۔ الخ ۸ / ۱۳۹ ملتقطا) اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے امین۔