Surah Al Hajj Ayat 41 (22:41)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نما زقائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے قبضے میں سب کاموں کا انجام ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نما زبرپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اوربرائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لئے سب کاموں کا انجام۔
Tafseer (Urdu)
{الذین ان مكنهم فی الارض: وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں ۔} ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائیں تو ان کی سیرت ایسی پاکیزہ ہو گی کہ وہ میری تعظیم کے لئے نما زقائم رکھیں گے زکوۃ دیں گے بھلائی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔(روح البیان الحج تحت الایۃ: ۴۱ ۶ / ۴۱) امام عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں خبر دی گئی ہے کہ آئندہ مہاجرین کو زمین میں تصرف عطا فرمانے کے بعد (بھی)ان کی سیرتیں بڑی پاکیزہ رہیں گی اور وہ دین کے کاموں میں اخلاص کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ اس میں خلفاء راشدین کے عدل و انصاف اور ان کے تقوی و پرہیزگاری کی دلیل ہے جنہیں اللہ تعالی نے اقتدار اور حکومت عطا فرمائی اور عادلانہ سیرت عطا کی۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۴۱ ص۷۴۲) خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہم کی پاکیزہ سیرت کی جھلک: حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں چار صحابہ کرام حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروقحضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہم کو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے مقابلے میں خاص قرب اور مقام حاصل تھا اور یہ چار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سیرت وعمل اور پاکیزہ کردار کے لحاظ سے بقیہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر فوقیت رکھتے تھے اور ان کی عبادت و ریاضتتقوی و پرہیزگاری اورعدل و انصاف بے مثل حیثیت رکھتے تھےپھر جب سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا تو بالترتیب ان چار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مسلمانوں کی امامت و خلافت کی ذمہ داری کو سنبھالا ان کی خلافت کو خلافت راشدہ کہا جاتا ہے۔ ان کے دور خلافت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو زمین پر غلبہ و اقتدار عطا فرمایا اور مسلمانوں نے اللہ تعالی کے فضل و کرم اور اس کی مدد و نصرت سے روم اور ایران جیسی اپنے وقت کی سپر پاورز کو قدموں تلے روند کر رکھ دیاعراق اور مصر پر قبضہ کر لیا اور افریقی ممالک میں بھی دین اسلام کے جھنڈے گاڑ دئیے۔اتنا عظیم اقتدار اور اتنی بڑی سلطنت رکھنے کے باوجود ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی سیرت پہلے کی طرح پاکیزہ رہی بلکہ اس کی پاکیزگی اور طہارت میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خلافت ملنے کے بعد بھی انہوں نے اللہ تعالی کے فرائض کو پابندی سے ادا کیا نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کے باقاعدہ نظام بنائے لوگوں کو نیک کام کرنے کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے اہم ترین فریضے کو بڑی خوبی سے ادا کیاالغرض ان کی پاکیزہ سیرت کاحال یہ ہے کہ ان کے تقوی و پرہیز گاریدنیا سے بے رغبتی اللہ تعالی کے خوف سے گریہ و زاریعاجزی وانکساریحلم و بردباری شفقت ورحم دلیجرات و بہادریامت کی خیر خواہیغیرت ایمانی اور عدل و انصاف کے اتنے واقعات ہیں جنہیں جمع کیا جائے تو ہزاروں صفحات بھر جائیں ۔ اللہ تعالی ان عظیم ہستیوں کے صدقے اج کے مسلم حکمرانوں کو بھی عقل سلیم عطا فرمائے اور انہیں اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق حکومت کانظام چلانے کی توفیق عطا فرمائے امین۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی دین اسلام پر استقامت: اس ایت میں دی گئی خبر سے معلوم ہو اکہ جب ہجرت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو زمین میں اقتدار ملے گا تو ا س کے بعد بھی وہ اسی دین پر قائم ہوں گے جسے انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لا کر اختیار کیا تھالہذا قران مجید کی ا س سچی خبر کے مطابق حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کے خلیفہ بنے تو اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم معاذ اللہ مرتد نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ دین اسلام پر ہی مضبوطی سے قائم تھے اور انہوں نے اسلام کے اصول و قوانین پر ہی عمل کیا اور ہر جگہ انہی اصولوں کو نافذ کیااس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کر کے معاذ اللہ سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم مرتد ہو گئے تھے۔ اللہ تعالی انہیں عقل سلیم عطا فرمائے ۔