Surah Al Hajj Ayat 42 (22:42)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُ 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو بیشک ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود تکذیب کرچکے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو بیشک ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود۔
Tafseer (Urdu)
{و ان یكذبوك: اوراگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں ۔}اس ایت ا ور ا س کے بعد والی دو ایات میں پچھلی کافر قوموں کا اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ طرز عمل بیان کر کے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقدس دل کو تسلی دی گئی ہے چنانچہ ان ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر یہ کفار اپ کو جھٹلاتے ہیں تو اپ تسلی رکھیں اور ان کی طرف سے انے والی اذیتوں پر صبر کریں کفار کا یہ پرانا طریقہ ہے اور پچھلے انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی ان کا یہی دستور رہا ہے چنانچہ کفار مکہ سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم یعنی عاد حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم یعنی ثمود حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم اورحضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے لوگ اپنے اپنے انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرچکے ہیں اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جھٹلایا گیا ہےتو میں نے ان کافرو ں کو ڈھیل دی اور ان کے عذاب میں تاخیر کی اور انہیں مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑا اور مختلف عذابوں سے ان کے کفر و سرکشی کی سزا دی تو ان پر میرا عذاب کیسا ہولناک اور دردناک ہوا!۔اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آپ کی تکذیب کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنے انجام کے بارے میں سوچیں اور پچھلوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ ائے تو ان کا انجام بھی بہت خوفناک ہو گا۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۴۲-۴۴ ص۷۴۲ روح البیان الحج تحت الایۃ: ۴۲-۴۴ ۶ / ۴۲ ملتقطا) {و كذب موسى: اور موسی کی تکذیب کی گئی۔} یہاں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیاکہ اپ کی قوم نے اپ کی تکذیب کی اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل نے آپ کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ فرعون کی قوم قبطیوں نے حضرت موسی علیہ السلام کی تکذیب کی تھی۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۴۴ ص۷۴۲)