Surah Al Hajj Ayat 61 (22:61)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ 61
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اس لیے ہے اللہ رات کو دن کے حصے میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات کے حصہ میں داخل کرتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ اس لیے کہ اللہ تعالٰی رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں اور اس لیے کہ اللہ سنتا دیکھتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك بان الله یولج الیل فی النهار:یہ اس لیے ہے اللہ رات کو دن کے حصے میں داخل کردیتا ہے۔} یعنی مظلوم کی مدد فرمانا اس لئے ہے کہ اللہ عزوجل جو چاہے اس پر قادر ہے اور اس کی قدرت کی نشانیاں اس سے ظاہر ہیں کہ وہ کبھی دن کو بڑھاتا رات کو کم کر دیتا ہے اور کبھی رات کو بڑھاتا دن کو کم کر دیتاہے اس کے سوا کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتاتو جو ایسا قدرت والا ہے وہ جس کی چاہے مدد فرمائے اور جسے چاہے غالب کرے۔نیز مظلوم کی مدد فرمانا اس لئے ہے کہ اللہ تعالی سب کی باتیں سننے والا اورسب کے اعمال دیکھنے والاہےاس سے نہ کسی کی کوئی بات پوشیدہ ہے اور نہ کسی کا کوئی عمل چھپا ہوا ہے۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۶۱ ص۷۴۶ طبری الحج تحت الایۃ: ۶۱ ۹ / ۱۸۳ ملتقطا) کافروں کے غلبے سے دل تنگ نہیں ہونا چاہئے : اس ایت میں اشارۃفرمایاگیا کہ جیسے کبھی دن بڑے کبھی راتیں ایسے ہی کبھی کفار کا غلبہ ہوتا ہے اور کبھی مومنوں کا تسلط۔ لہذا کافروں کا غلبہ دیکھ کر مسلمانوں کو دل تنگ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے اقوال اعمال اور افعال کی اصلاح کرنے میں مشغول ہونا چاہئے تاکہ اللہ تعالی اپنی رحمت کے صدقے مسلمانوں کو کفار پر غلبہ اور فتح ونصرت عطا فرمائے۔