Surah Al Hajj Ayat 8 (22:8)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ۔
Tafseer (Urdu)
{و من الناس من یجادل فی الله بغیر علم:اورکوئی ادمی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیرعلم کے جھگڑتا ہے۔} شان نزول :یہ آیت ابوجہل وغیرہ کفار کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالی کی صفات میں جھگڑا کرتے تھے اور اس کی طرف ایسے اوصاف منسوب کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں ۔ چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں میں کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ تعالی کی شان و صفت کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ اس کے پاس نہ تو علم ہے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی روشن تحریر ہے اس کے باوجود اس کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنی بات پر اصرار کئے ہوئے اورتکبر کی بنا پر حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالی کی راہ سے بھٹکا دے اور اس کے دین سے منحرف کر دےاس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالی اسے آگ کا عذاب چکھائے گا اور ا س سے کہا جائے گا کہ یہ اس کفر و تکذیب کا بدلہ ہے جو تو نے دنیا میں کیا اور اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ بندوں پر ظلم نہیں کرتااور کسی کو جرم کے بغیر پکڑتا ہے اور نہ ہی کسی کے جرم کے بدلے گرفت فرماتا ہے۔( خازن الحج تحت الایۃ: ۸-۱۰ ۳ / ۳۰۰ مدارک الحج تحت الایۃ: ۸-۱۰ ص۷۳۲ ملتقطا) ایت’’و من الناس من یجادل‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام: اس ایت سے دو احکام معلوم ہوئے (1)… آدمی کو کوئی بات علم اور سند و دلیل کے بغیر نہیں کہنی چاہئے اور خاص طور پر اللہ تعالی کی شان میں ہر گز ایسی کوئی بات نہ کرے جو اس کی عظمت و شان کے لائق نہ ہو اور علم سند اور دلیل کے بغیر ہو۔ (2)…علم والے کے خلاف جو بات بے علمی سے کہی جائے گی وہ باطل ہوگی ۔ ہمارے اج کے زمانے کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ہر ادمی اپنی عقل سے جو چاہتا ہے اللہ عزوجل کے بارے میں کہتا ہے اور پھراس پر اصرار کرتا ہے بلکہ دوسروں کو مجبور کرتا ہے کہ اس کی بات مانیں اگرچہ اس کی بات عقل و نقل سے دور قران و حدیث کے خلاف اور جہالت و حماقت سے بھرپور ہو۔