Surah Al Muminun Ayat 109 (23:109)
The Believers · Juz 18 · Makki
اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَﭕ 109
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا: اے ہمارے رب!ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{انه كان فریق من عبادی یقولون: بیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! تمہارا حال یہ تھا کہ جب دنیا میں میرے مومن بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا: اے ہمارے رب! ہم تجھ پر ایمان لائے اور ہم نے تیری اور جو کچھ تیری طرف سے ایا ا س کی تصدیق کی توہمارے گناہوں کو معاف فرما کر ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اورہمیں جہنم سے نجات دے کر اور جنت میں داخل فرما کر ہم پراپنا احسان فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے کیونکہ تیری رحمت ہی تمام رحمتوں کا منبع ہے۔‘‘تو اے کافروتم نے انہیں مذاق بنالیا یہاں تک کہ ان لوگوں کا مذاق اڑانے نے تمہیں میری یاد بھلا دی اور تمہیں میرے عذاب کا خوف نہ رہا اور تم ان سے ہنسا کرتے اور ان کا بہت مذاق اڑایا کرتے تھے۔بیشک آج میں نے انہیں تمہاری اذیتوں اور مذاق اڑانے پر صبر کرنے کا یہ بدلہ دیا کہ وہی ہمیشہ کے لئے جنت کی نعمتیں پا کر کامیاب ہیں ۔( روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۱۰۹-۱۱۱ ۶ / ۱۰۹ جلالین المومنون تحت الایۃ: ۱۰۹-۱۱۱ ص۲۹۳ ملتقطا) شان نزول : بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیتیں ان کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئیں جو حضرت بلال حضرت عمارحضرت صہیب حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہم اوران جیسے دیگر فقراء صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔( خازن المومنون تحت الایۃ: ۱۰۹ ۳ / ۳۳۳)