Surah Al Muminun Ayat 112 (23:112)
The Believers · Juz 18 · Makki
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ 112
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ فرمائے گا : تم زمین میں سالوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا تم زمین میں کتنا ٹھہرے برسوں کی گنتی سے۔
Tafseer (Urdu)
{قل: فرمایا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دوایات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن کفار سے فرمائے گا کہ تم دنیا میں اور قبر میں سالوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو کفار اس سوال کے جواب میں کہیں گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ۔ کفار یہ جواب اس وجہ سے دیں گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب کی ہیبت سے انہیں اپنے دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہ رہے گی اور انہیں شک ہوجائے گا اسی لئے کہیں گے: اے اللہ! عزوجل توان فرشتوں سے دریافت فرما جنہیں تو نے بندوں کی عمریں اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ہے۔ اللہ تعالی کفار کو جواب دے گا کہ اگر تمہیں دنیا میں رہنے کی مدت معلوم ہوتی تو تم جان لیتے کہ اخرت کے مقابلے میں دنیا میں بہت ہی تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو۔( خازن المومنون تحت الایۃ: ۱۱۲-۱۱۴ ۳ / ۳۳۳)