Surah Al Muminun Ayat 118 (23:118)
The Believers · Juz 18 · Makki
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ 118
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم عرض کرو، اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم عرض کرو اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا۔
Tafseer (Urdu)
{و قل: اور تم عرض کرو۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو استغفار کرنے کا حکم دیا تاکہ امت اس میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پیروی کرے اوربعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس ایت میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے واسطے سے اپ کی امت کو استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔( قرطبی المومنون تحت الایۃ: ۱۱۸ ۶ / ۱۱۷ الجزء الثانی عشر) استغفار کا سردار: حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’استغفار کا سردار یہ ہے کہ تم کہو ’’اللہم انت ربی لا الـہ الا انت خلقتنی و انا عبدک و انا علی عہدک ووعدک ما استطعت اعوذ بک من شر ما صنعت ابوئ لک بنعمتک علی و ابوئ بذنبیفاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت‘‘ یعنی الہی تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں مجھے بخش دے تیرے سوا گناہ کوئی نہیں بخش سکتا۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو یقین قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقین دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۔(بخاری کتاب الدعوات باب افضل الاستغفار ۴ / ۱۸۹ الحدیث: ۶۳۰۶)