Surah Al Muminun Ayat 14 (23:14)
The Believers · Juz 18 · Makki
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَﭤ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنایا، پھر اسے ایک دوسری صورت بنا دیا تو بڑی برکت والا ہے وہ اللہ جوسب سے بہتربنانے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں اُٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم خلقنا النطفة علقة: پھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے ماں کے رحم میں نطفہ قرار پکڑنے کے بعد والے مراحل بیان فرمائےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ پھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنایا پھر اس میں روح ڈال کر اس بے جان کو جان دار کیا بولنے سننے اور دیکھنے کی صلاحیت عطا کی اوراسے ایک دوسری صورت بنا دیاجو مکمل انسان ہوتا ہے تو بڑی برکت والا ہے وہ اللہ عزوجل جو سب سے بہتربنانے والاہے۔( خازن المومنون تحت الایۃ: ۱۴ ۳ / ۳۲۱-۳۲۲ مدارک المومنون تحت الایۃ: ۱۴ ص۷۵۳ ملتقطا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی سعادت : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :جب یہ ایت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے (اس کا ابتدائی حصہ سن کر) کہا’’فتبرك الله احسن الخلقین‘‘حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! رضی اللہ تعالی عنہ اسی طرح نازل ہوا ہے۔( تفسیرکبیر المومنون تحت الایۃ: ۱۴ ۸ / ۲۶۶) انسان کی تخلیق اللہ تعالی کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے: انسان کے ظاہر وباطناس کے ہر ہر عضو اور ہر ہر جز میں اللہ تعالی کی قدرت و حکمت کی اتنی نشانیاں موجود ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی شرح بیان کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص انصاف کے ساتھ اپنی تخلیق کے مراحل اور اپنے جسم کی بناوٹ میں غور وفکر کرے تو اس کے پا س یہ بات ماننے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو گا کہ ایسی حیرت انگیز تخلیق پر اللہ تعالی کے سوا اور کوئی قادر نہیں اوروہی اکیلا اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔