Surah Al Muminun Ayat 55 (23:55)
The Believers · Juz 18 · Makki
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم مال اور بیٹوں کے ساتھ ان کی مدد کررہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے۔
Tafseer (Urdu)
{ایحسبون: کیا یہ خیال کررہے ہیں۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت میں کفار مکہ کے بارے میں فرمایا گیا کہ کیا وہ یہ خیال کررہے ہیں کہ ہم جو مال اور بیٹوں کے ساتھ ان کی مدد کررہے ہیں تو یہ ہم ان کیلئے بھلائیوں میں جلدی کررہے ہیں اور ہماری یہ نعمتیں ان کے اعمال کی جزاء ہیں یا ہمارے راضی ہونے کی دلیل ہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ انہیں خبر ہی نہیں کہ ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں ۔( خازن المومنون تحت الایۃ: ۵۵-۵۶ ۳ / ۳۲۷ روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۵۵-۵۶ ۶ / ۸۹ ملتقطا) کفار کی ترقی اللہ تعالی کے راضی ہونے کی دلیل نہیں : اس سے معلوم ہو اکہ کفار کے پاس مال اور اولاد کی کثرت اللہ تعالی کے ان سے راضی ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے انہیں ڈھیل ہے۔دوسری ایت میں ارشاد باری تعالی ہے ’’و لا تعجبك اموالهم و اولادهم-انما یرید الله ان یعذبهم بها فی الدنیا و تزهق انفسهم و هم كفرون‘‘(التوبہ:۸۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور ان کے مال اوراولاد تمہیں تعجب میں نہ ڈالیں ۔ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور کفر کی حالت میں ان کی روح نکل جائے۔ فی زمانہ کفار کی دنیوی علوم و فنون میں ترقی اور مال ودولت کی بہتات دیکھ کر بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہے جبھی تو وہ اس قدر ترقی یافتہ ہیں اگر اللہ تعالی ان سے راضی نہ ہوتا تو وہ ا س قدر اسائشوں میں تھوڑی ہوتے۔ اگر انہوں نے قران پاک کو سمجھ کر پڑھا ہوتا تو شاید ایسی باتیں ان کی زبان پر کبھی نہ اتیں ۔ اللہ تعالی انہیں عقل سلیم اور فہم عطا فرمائےامین۔