Surah Al Muminun Ayat 96 (23:96)
The Believers · Juz 18 · Makki
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَؕ-نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ 96
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariسب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو۔ ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ کررہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب سے اچھی بھلائی سے بُرائی کو دفع کرو ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بناتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ادفع بالتی هی احسن السیئة: برائی کو اس خصلت و عادت سے دفع کروجو سب سے اچھی ہو۔} مفسرین نے اس خوبصورت جملے کے کثیرمعنی بیان فرمائے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔(1) توحید جو کہ سب سے اعلی بھلائی ہے اس سے شرک کی برائی کو دفع فرمائیں ۔ (2)طاعت و تقوی کو رواج دے کر معصیت اور گناہ کی برائی دفع کیجئے۔ (3)اپنے مکارم اخلاق سے خطا کاروں پر اس طرح عفو ورحمت فرمائیں جس سے دین میں کوئی سستی نہ ہو۔( ابوسعود المومنون تحت الایۃ: ۹۶ ۴ / ۶۳ ملخصا) رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت سے برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی مثالیں : سبحان اللہ! اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اور اپ کے ذریعے اپ کی امت کی کتنی پیاری تربیت فرمائی ہے اسی طرح ایک اور ایت میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’و لا تستوی الحسنة و لا السیئة-ادفع بالتی هی احسن فاذا الذی بینك و بینه عداوة كانه ولی حمیم‘‘(حم السجدہ:۳۴) ترجمہکنزالعرفان: اور اچھائی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کےدرمیان دشمنی ہوگی تو اس وقت وہ ایسا ہوجائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جیسے سو اونٹوں کے لالچ میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو شہید کرنے کے لئے انے والے سراقہ بن مالک کو امان لکھ دی۔اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو شہید کرنے کے ارادے سے زہر میں بجھی تلوار لے کر انے والے عمیر بن وہب کے ساتھ ایسا سلوک فرمایا کہ وہ وہیں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ فتح مکہ کے بعد ان کی سفارش پر صفوان بن امیہ کو بھی معاف کر دیا منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی سلول کی نماز جنازہ پڑھا دی۔مدینہ منورہ پر کئی حملے کرنے والے ابو سفیان کو معاف کر دیا۔ اپنے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والے شخص وحشی کومعاف کر دیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کلیجہ چبانے والی ہند بنت عتبہ کو معاف کر دیا۔اگر تمام مسلمان اس ایت مبارکہ میں دئیے گئے حکم پر عمل پیرا ہوجائیں تو کوئی بعید نہیں کہ ہمارے معاشرے میں امن و سکون کا دور دورہ ہو جائے۔ {نحن اعلم: ہم خوب جانتے ہیں ۔} اس ایت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشادفرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ کفار اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں کررہے ہیں اپ ان کا معاملہ ہم پہ چھوڑدیں ہم انہیں اس کی سزا دیں گے۔( ابوسعود المومنون تحت الایۃ : ۹۶ ۴ / ۶۳ بیضاوی المومنون تحت الایۃ: ۹۶ ۴ / ۱۶۷ مدارک المومنون تحت الایۃ: ۹۶ ص۷۶۴ ملتقطا)