Surah An Noor Ayat 45 (24:45)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍؕ-یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے زمین پر چلنے والا ہر جاندار پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے اللہ بناتا ہے جو چاہے بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الله خلق كل دآبة من مآء: اور اللہ نے زمین پر چلنے والا ہر جاندار پانی سے بنایا۔} اس سے پہلی ایات میں اسمانوں اور زمین کے احوال سے اور اسمانی اثارسے اللہ تعالی کی قدرت و وحدانیت پر دلائل ذکر کئے گئے اور اس ایت سے جانداروں کے احوال سے اللہ تعالی کی قدرت و وحدانیت پر استدلال کیا جارہا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جانداروں کی تمام اجناس کو پانی کی جنس سے پیدا کیا اور پانی ان سب کی اصل ہے اور اپنی اصل میں متحد ہونے کے باوجود ان سب کا حال ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہےیہ کائنات کو تخلیق فرمانے والے کے علم و حکمت اور اس کی قدرت کے کمال کی روشن دلیل ہے کہ اس نے پانی جیسی چیز سے ایسی عجیب مخلوق پیدا فرمادی۔مزید فرمایا کہ ان جانداروں میں کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے جیسا کہ سانپ مچھلی اور بہت سے کیڑے اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسا کہ آدمی اور پرندے اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسا کہ چوپائے اور درندے۔ اللہ تعالی جو چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ بیشک اللہ عزوجل ہر شے پر قادر ہے تو کچھ بھی اس کے لئے مشکل نہیں ۔( تفسیرکبیرالنور تحت الایۃ: ۴۵۸ / ۴۰۶-۴۰۷ مدارک النورتحت الایۃ:۴۵ ص۷۸۵ خازن النور تحت الایۃ: ۴ ۳ / ۳۵۸ ملتقطا) نوٹ: اللہ تعالی کی عجیب و غریب مخلوقات کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے کتاب ’’حیاۃ الحیوان‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔