Surah An Noor Ayat 51 (24:51)
The Light · Juz 18 · Madani
اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 51
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرمادے تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی او ریہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سُنا اور حکم مانا اوریہی لوگ مراد کو پہنچے۔
Tafseer (Urdu)
{انما كان قول المؤمنین: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو شریعت کا ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا ہونا چاہئے کہ جب انہیں اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف بلایا جائے تا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے درمیان اللہ تعالی کے دئیے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلہ فرمادیں تو وہ عرض کریں کہ ہم نے بلاوا سنا اور اسے قبول کر کے اطاعت کی او رجو ان صفات کے حامل ہیں وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔( خازن النور تحت الایۃ: ۵۱ ۳ / ۳۵۹ مدارک النور تحت الایۃ: ۵۱ ص۷۸۷ ملتقطا) دین ودنیا میں کامیابی حاصل ہونے کا ذریعہ : اس سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم کے سامنے اپنی عقل کے گھوڑے نہ دوڑائے جائیں اور نہ ہی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں صرف اپنی عقل کو معیار بنایا جائے بلکہ جس طرح ایک مریض اپنے اپ کو ڈاکٹر کے سپرد کر دیتا ہے اور اس کی دی ہوئی دوائی کو چون وچرا کئے بغیر استعمال کرتا ہے اسی طرح خود کوحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حوالے کر دینا اور اپ کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہئے کیونکہ ہماری عقلیں ناقص ہیں اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عقل مبارک وحی کے نور سے روشن اور کائنات کی کامل ترین عقل ہے۔ اگر اس پر عمل ہو گیا تو پھر دین و دنیا میں کامیابی نصیب ہو گی۔