Surah Al Furqan Ayat 3 (25:3)
The Criterion · Juz 18 · Makki
وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور لوگوں نے اس کے سوا بہت سے معبود بنالئے جو کسی شے کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود انہیں بنایا جاتا ہے اور وہ اپنے لئے کسی نقصان اور نفع کے مالک نہیں ہیں اور نہ وہ (کسی کی) موت اور زندگی کے اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا اختیاررکھتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور لوگوں نے اس کے سوا اَور خدا ٹھہرالیے کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے بُرے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اُٹھنے کا۔
Tafseer (Urdu)
{و اتخذوا من دونه الهة: اور لوگوں نے اس کے سوا بہت سے معبود بنالئے۔} اس ایت کا معنی یہ ہے جو معبود خالق مالک اور قادر ہونے میں یکتا ہے بت پرست اس کی عبادت کرنے پربتوں کی عبادت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں حالانکہ وہ بت ایسے عاجز اور بے قدرت ہیں کہ کسی شے کو پیدا ہی نہیں کرسکتے بلکہ خود انہیں بنایا جاتا ہے اور وہ اپنے اپ سے کوئی ضرر دور کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ ہی خود کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں کسی کو موت اور زندگی دینے کے مالک ہیں نہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۳ ص۷۹۵) مسلمان ولیوں کے مزارات کا احترام کرتے ہیں پوجتے ہر گز نہیں : یاد رہے کہ مشہور اور معتبر تمام مفسرین نے نقصان دور نہ کر سکنے اور نفع نہ پہنچا سکنے کا وصف بتوں کے لئے ثابت کیا ہے کسی نے بھی ا س سے اللہ تعالی کے اولیاء کے مزارات مراد نہیں لئےفی زمانہ بعض لوگ اس ایت سے اللہ تعالی کے اولیاء کے مزارات مراد لیتے ہیں جو کہ انتہائی غلط اور قرانی ایات کے معنی اپنی رائے سے گھڑنے کے مترادف ہے۔ بتوں کے بارے میں نازل ہونے والی ایتیں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم پر چسپاں کرنا خارجیوں کا طریقہ ہے۔مسلمان ولیوں کے مزارات کا احترام کرتے ہیں پوجتے ہر گز نہیں احترام اور پوجنے میں بڑا فرق ہے۔