Surah Al Furqan Ayat 59 (25:59)
The Criterion · Juz 19 · Makki
الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِۚۛ-اَلرَّحْمٰنُ فَسْــٴَـلْ بِهٖ خَبِیْرًا 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر اس نے عرش پراستواء فرمایاجیسا اس کی شان کے لائق ہے، وہ نہایت رحم فرمانے والا ہے تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے وہ بڑی مِہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ۔
Tafseer (Urdu)
{فی ستة ایام: چھ دن میں ۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل وہی ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے۔اس سے مراد یہ ہے کہ چھ دن کی مقدار میں بنائے کیونکہ اس وقت رات دن اور سورج تو تھے ہی نہیں اور اتنی مقدار میں پیدا کرنا اپنی مخلوق کو آہستگی اور اطمینان کی تعلیم دینے کے لئے ہے ورنہ وہ ایک لمحہ میں سب کچھ پیدا کردینے پر قادر ہے۔( روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۵۹ ۶ / ۲۳۴) نوٹ: اسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کرنے کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات کے لئے سورہ اعراف ایت نمبر54کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔ {استوى على العرش: عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔} علماء فرماتے ہیں کہ استواء اور اس طرح کی جو چیزیں قران پاک کی ایات میں ذکر ہوئی ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کیفیت کے درپے نہیں ہوتے ان کی کیفیت کو اللہ تعالی ہی جانتا ہے۔ بعض مفسرین استواء کو بلندی اور برتری کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض استیلا ء کے معنی میں لیکن پہلا قول ہی زیادہ مضبوط اور سلامتی والاہے یعنی یہ کہ اس کی حقیقی مراد اللہ تعالی ہی جانتا ہے۔ نوٹ:اللہ تعالی کے عرش پر استواء فرمانے کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے سورہ اعراف ایت نمبر 54کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔ {فســٴـل به خبیرا: تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ۔} اس ایت میں انسان سے خطاب ہے کہ وہ اللہ تعالی کی صفات کسی ایسے شخص سے دریافت کرے جو اللہ تعالی کی معرفت رکھتا ہو۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۵۹ ص۸۰۸)