Surah Ash Shura Ayat 157 (26:157)
The Poets · Juz 19 · Makki
فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ 157
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو انہوں نے اس کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں پھرصبح کو پچھتاتے رہ گئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر صبح کو پچتاتے رہ گئے۔
Tafseer (Urdu)
{فعقروها: تو انہوں نے اس کے پاوں کی رگیں کاٹ دیں ۔} ارشاد فرمایا کہ انہوں نے حضرت صالح علیہ الصلوۃ و السلام کے سمجھانے کے باوجوداس اونٹنی کے پاوں کی رگیں کاٹ دیں تو صبح کو پچھتاتے رہ گئے۔ پاوں کی رگیں کاٹنے والے شخص کا نام قدار تھا اور چونکہ لوگ اس کے اس فعل سے راضی تھے اس لئے پاوں کی رگیں کاٹنے کی نسبت ا ن سب کی طرف کی گئی اور ان کا پچھتانا پاوں کی رگیں کاٹ دینے پر عذاب نازل ہونے کے خوف سے تھا نہ کہ وہ معصیت پر توبہ کرتے ہوئے نادم ہوئے تھے یا وہ عذاب کا معاینہ کر کے نادم ہوئے تھے اور ایسے وقت کی ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۱۵۷ ص۸۲۸)