Surah Ash Shura Ayat 193 (26:193)
The Poets · Juz 19 · Makki
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ 193
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاسے روحُ الا مین لے کر نازل ہوئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاسے روحُ الا مین لے کر اترا۔
Tafseer (Urdu)
{نزل به: اسے لے کر نازل ہوئے۔} قران پاک کو روح الا مین یعنی حضرت جبریل علیہ السلام لے کر نازل ہوئے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کو روح اور امین کہنے کی وجوہات: حضرت جبریل علیہ السلام کو روح کہنے کی ایک وجہ مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ اپ علیہ السلام روح سے پیدا کئے گئے ہیں اس لئے اپ علیہ السلام کو روح کہا گیا۔دوسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح روح بدن کی زندگی کا سبب ہوتی ہے اسی طرح حضرت جبریل علیہ السلام مکلف لوگوں کے دلوں کی زندگی کا سبب ہیں کیونکہ علم اور معرفت کے نور سے دل زندہ ہوتے ہیں جبکہ بے علمی اور جہالت سے مردہ ہو تے ہیں اورحضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے وحی نازل ہوتی ہے جس سے اللہ تعالی کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس معرفت کے ذریعے بے علمی اور جہالت کی وجہ سے مردہ ہو جانے والے د ل زندہ ہوجاتے ہیں ا س لئے اپ علیہ السلام کو روح فرمایا گیا اور اپ علیہ السلام کو امین ا س لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تک اپنی وحی پہنچانے کی امانت ان کے سپرد فرمائی ہے۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۱۹۳ ۳ / ۳۹۵ تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۱۹۳ ۸ / ۵۳۰ روح البیان الشعراء تحت الایۃ:۱۹۳ ۶ / ۳۰۶ ملتقطا) قران مجید کے بارے میں ایک عقیدہ: یاد رہے کہ قران پاک اللہ تعالی کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے جو ا س کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اللہ تعالی نے اس کلام کو عربی الفاظ کے لبادے میں حضرت جبریل علیہ السلام پر نازل فرمایا اور انہیں ان الفاظ پر امین بنایا تاکہ وہ اس کے حقائق میں تصرف نہ کریں اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے ان الفاظ کوحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل کیا۔( روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۱۹۳ ۶ / ۳۰۶)