Surah Ash Shura Ayat 194 (26:194)
The Poets · Juz 19 · Makki
عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ 194
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمہارے دل پرتاکہ تم ڈر سنانے والوں میں سے ہوجاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ۔
Tafseer (Urdu)
{على قلبك: تمہارے دل پر۔} یعنی اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت جبریل علیہ السلام نے اپ کے سامنے ا س قران کی تلاوت کی یہاں تک کہ اپ نے اسے اپنے دل میں یاد کر لیا کیونکہ دل ہی کسی چیز کو یاد رکھنے اور اسے محفوظ رکھنے کا مقام ہےوحی اور الہام کا معدن ہے اور انسان کے جسم میں دل کے علاوہ اور کوئی چیز خطاب اور فیض کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔( روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۱۹۴ ۶ / ۳۰۶) نیز اس لئے کہ آپ اسے محفوظ رکھیں اور سمجھیں اور نہ بھولیں ۔ دل کی تخصیص اس لئے ہے کہ درحقیقت وہی مخاطب ہے اور تمیزعقل اور اختیار کا مقام بھی وہی ہے تمام اعضاء اس کے اگے مسخر اور اطاعت گزارہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دل کے درست ہونے سے تمام بدن درست ہوجاتا اور اس کے خراب ہونے سے سب جسم خراب ہو جاتا ہے نیز فرحت و سرور اوررنج و غم کا مقام دل ہی ہے جب دل کو خوشی ہوتی ہے تو تمام اعضاء پر اس کا اثر پڑتا ہے پس دل ایک رئیس کی طرح ہے اور وہی عقل کا مقام ہے تو وہ امیر مطلق ہوا اور مکلف ہوناجو کہ عقل و فہم کے ساتھ مشروط ہے اسی کی طرف لوٹا۔ {لتكون من المنذرین: تاکہ تم ڈر سنانے والوں میں سے ہوجاؤ۔} یہاں قران پاک کو نازل کرنے کی حکمت اور مصلحت بیان کی جار ہی ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ پر قران پاک اس لئے نازل ہوا تاکہ اپ اس کے ذریعے اپنی امت کو ان کاموں سے ڈرائیں جنہیں کرنے یا نہ کرنے سے وہ عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔