Surah Ash Shura Ayat 69 (26:69)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَﭥ 69
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان کے سامنے ابراہیم کی خبر پڑھو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان پر پڑھو خبر ابراہیم کی۔
Tafseer (Urdu)
{و اتل علیهم: اور ان کے سامنے پڑھو۔} اس رکوع میں سید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تسلی کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا جا رہا ہےچنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کفار مکہ کے سامنے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ واقعہ بیان کریں کہ جب انہوں نے اپنے (عرفی) باپ اور اپنی قوم سے فرمایا’’ تم کس کی عبادت کرتے ہو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام جانتے تھے کہ وہ لوگ بت پرست ہیں اس کے باوجود آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا ان سے یہ سوال فرمانا اس لئے تھا تاکہ انہیں دکھادیں کہ جن چیزوں کو وہ لوگ پوجتے ہیں وہ کسی طرح بھی عبادت کے مستحق نہیں ۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۶۹-۷۰ ص۸۲۲ خازن الشعراء تحت الایۃ: ۶۹-۷۰ ۳ / ۳۸۸ ملتقطا) نوٹ:یاد رہے کہ ایت میں باپ سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا چچا ازر مراد ہے۔ اس بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے سورہ مریم ایت نمبر42کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں نیزاس واقعے کی بعض تفصیلات سورہ انعام ایت نمبر74تا83سورہ توبہ ایت نمبر114 سورہ مریمایت نمبر 41تا49 اور سورہ انبیاء ایت نمبر51تا 70 میں گزر چکی ہیں ۔ { قالوا: انہوں نے کہا۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے سوال کرنے پر قوم نے جواب دیا ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اس کے بعد فخریہ انداز میں کہنے لگے کہ ہم ان کے سامنے سار ادن جم کر بیٹھے رہتے ہیں ۔( ابو سعود الشعراء تحت الایۃ: ۷۱ ۴ / ۱۶۶)