Surah An Naml Ayat 13 (27:13)
The Ant · Juz 19 · Makki
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب ان کے پاس آنکھیں کھولتی ہوئی ہماری نشانیاں آئیں تو وہ کہنے لگے: یہ توکھلا جادو ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب ہماری نشانیاں آنکھیں کھولتی ان کے پاس آئیں بولے یہ تو صریح جادو ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فلما جآءتهم ایتنا: پھر جب ان کے پاس ہماری نشانیاں آئیں۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعونیوں کے پاس انکھیں کھول دینے والی اللہ تعالی کی نشانیاں یوں آئیں کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرعونیوں کے پاس تشریف لا کر ان نشانیوں کو ظاہر فرمایاتو وہ کہنے لگے:ہم جو دیکھ رہے ہیں یہ توکھلا جادو ہے۔ انہوں نے صرف ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان معجزات کاانکار کیا حالانکہ ان کے دلدماغ ان نشانیوں کا یقین کر چکے تھے اور وہ جانتے تھے کہ بے شک یہ نشانیاں اللہ تعالی کی طرف سے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی زبانوں سے انکار کرتے رہے۔تو دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہواکہ وہ لوگ دریا میں غرق کرکے ہلاک کر دیئے گئے۔( خازن النمل تحت الایۃ: ۱۳-۱۴ ۳ / ۴۰۳ روح البیان النمل تحت الایۃ: ۱۳-۱۴ ۶ / ۳۲۴ ملتقطا) عذاب یافتہ لوگوں کے انجام سے عبرت ونصیحت حاصل کرنی چاہئے: علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :یہ واقعہ کفار قریش کے سامنے بطور مثال پیش کر کے ان پر واضح کر دیا گیا کہ جو رب تعالی فرعون (اور ا س کی قوم) کو ہلاک کرنے پر قدرت رکھتا ہے وہ ان لوگوں کو بھی ہلاک کرنے پر قادر ہے جو فرعون (اور اس کی قوم) کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں ۔اس میں قیامت تک انے والے تمام لوگوں کے لئے بھی نصیحت ہے کیونکہ دشمنوں پر اللہ تعالی کا غضب و جلال اسی طرح ہمیشہ کے لئے ہے جس طرح اولیاء پر اس کا کرم و جمال ہر زمانے میں باقی ہے لہذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے حال اور انجام سے عبرت ونصیحت حاصل کرے اور ان تمام اسباب کو ترک کر دے جو اللہ تعالی کے عذاب اور ہلاکت کی طرف لے جانے والے ہیں ۔( روح البیان النمل تحت الایۃ: ۱۴ ۶ / ۳۲۴ ملخصا)