Surah An Naml Ayat 22 (27:22)
The Ant · Juz 19 · Makki
فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکرعرض کی: کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو آپ نے نہ دیکھی اور میں ملک ِسبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر عرض کی کہ میں وہ بات دیکھ آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{فمكث غیر بعید: تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا۔} ا س ایت اور اس کے بعد والی چار ایات میں اس واقعے کا جو حصہ بیان ہوا ا س کا خلاصہ یہ ہے کہ ہدہدزیادہ دیر تک غیر حاضر نہ رہا بلکہ جلد ہی حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار شریف میں حاضر ہو گیا اور انتہائی ادبعاجزی اور انکساری کے ساتھ معافی طلب کر کے عرض کرنے لگا:میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ دیکھی اور میں یمن کے ایک علاقے سبا سے اپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جس کا نام بلقیس ہے وہ لوگوں پر بادشاہی کررہی ہے اور اسے ہر اس چیز میں سے وافر حصہ ملا ہے جو بادشاہوں کے لئے شایان ہوتا ہے اور اس کا ایک بہت بڑا تخت ہے جس کی لمبائی 80 گز چوڑائی 40گز اور اونچائی30گزہے۔ وہ تخت سونے اور چاندی کا بنا ہوا ہے اور اس میں جواہرات لگے ہوئے ہیں ۔ میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ تعالی کی بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں اچھے بنادئیے اور انہیں سیدھی راہ سے روک دیا ہے ا س لئے وہ سیدھا راستہ یعنی حق اور دین اسلام کا راستہ نہیں پاتے۔ تاکہ وہ اس اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیزوں یعنی بارش اور نباتات کو نکالتا ہے اورجو کچھ تم چھپاتے ہو اور جوظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔ اللہ تعالی وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔( جلالین النمل تحت الایۃ: ۲۲-۲۶ ص۳۱۹ ملخصا) خیال رہے کہ ہد ہد کی گفتگو کے اخری حصے کا تعلق ان علوم سے ہے جو اس نے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام سے حاصل کئے تھے اور یہاں ہدہد نے اپنے دین کی مضبوطی ظاہر کرنے کے لئے یہ کلام کیا تھا۔( جمل النمل تحت الایۃ: ۲۶ ۵ / ۴۳۶) {الا یسجدوا لله: تا کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں ۔} اس ایت اوراس کے بعد والی ایت میں سورج کی عبادت کرنے والوں بلکہ ان تمام باطل پرستوں کا رد ہے جو اللہ تعالی کے سوا کسی کو بھی پوجیں ۔ مقصود یہ ہے کہ عبادت کا مستحق صر ف وہی ہے جو کائنات ارضی و سماوی پر قدرت رکھتا ہو اور جمیع معلومات کا عالم ہو جو ایسا نہیں وہ کسی طرح عبادت کا مستحق نہیں ۔( خازن النمل تحت الایۃ: ۲۵ ۳ / ۴۰۸ ملخصا) نوٹ : یہ ایت اور اس کے بعد والی ایت پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہو جاتا ہے۔