Surah An Naml Ayat 32 (27:32)
The Ant · Juz 19 · Makki
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْۚ-مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariملکہ نے کہا:اے سردارو!میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولی اے سردارو میرے اس معاملہ میں مجھے رائے دو میں کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قالت:ملکہ نے کہا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مکتوب کا مضمون سنا کر بلقیس اپنی مملکت کے وزرا ء کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا ’’اے سردارو!میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔سرداروں نے کہا: ہم قوت والے ہیں اور بڑی سخت جنگ لڑ سکتے ہیں ۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر تیری رائے جنگ کی ہو تو ہم لوگ اس کے لئے تیار ہیں کیونکہ ہم بہادر اور شجاع ہیں قوت وتوانائی والے ہیں کثیر فوجیں رکھتے ہیں اورجنگ آزما ہیں ۔سرداروں نے مزید کہا کہ صلح یا لڑائی کااختیار توتمہارے ہی پاس ہےاے ملکہ! تو تم غور کرلو کہ تم کیا حکم دیتی ہو ہم تیری اطاعت کریں گے اور تیرے حکم کے منتظرہیں ۔ اس جواب میں انہوں نے یہ اشارہ کیا کہ ان کی رائے جنگ کی ہے یا اس جواب سے ان کا مقصدیہ تھا کہ ہم جنگی لوگ ہیں رائے اور مشورہ دینا ہمارا کام نہیں تم خود صاحب عقل اور صاحب تدبیر ہو ہم بہرحال تیری اطاعت کریں گے۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۳۲-۳۳ ص۸۴۵ خازن النمل تحت الایۃ: ۳۲-۳۳ ۳ / ۴۰۹-۴۱۰ ملتقطا)