Surah An Naml Ayat 34 (27:34)
The Ant · Juz 19 · Makki
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًۚ-وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے کہا: بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کوذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولی بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قالت: اس نے کہا۔} جب بلقیس نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کی طرف مائل ہیں تو اس نے انہیں ان کی رائے کی خطا پر آگاہ کیا اور جنگ کے نتائج سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ جب بادشاہ کسی بستی میں اپنی قوت اور طاقت سے داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو قتل کر کے قیدی بنا کراور ان کی توہین کر کے انہیں ذلیل کردیتے ہیں یہی بادشاہوں کا طریقہ ہے۔ ملکہ بلقیس چونکہ بادشاہوں کی عادت جانتی تھی اس لئے اس نے یہ کہا اور اس کی مراد یہ تھی کہ جنگ مناسب نہیں ہے اس میں ملک اور اہل ملک کی تباہی و بربادی کا خطرہ ہے۔(مدارک النمل تحت الایۃ: ۳۴ ص۸۴۵ ملخصا)