Surah An Naml Ayat 7 (27:7)
The Ant · Juz 19 · Makki
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًاؕ-سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا:میں نے ایک آ گ دیکھی ہے (تو میں جاتا ہوں اور) عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا کوئی چمکتی ہوئی چنگاری لاؤں گا تاکہ تم گرمی حاصل کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو۔
Tafseer (Urdu)
{اذ قال موسى لاهله: جب موسی نے اپنی گھر والی سے کہا۔} یہاں سے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے۔چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی 5 ایات میں بیان کئے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام مدین سے مصر کی طرف جا رہے تھے دوران سفر یوں ہواکہ رات کے وقت کافی اندھیرا اور برف باری ہونے کی وجہ سے سخت سردی تھیاپ علیہ الصلوۃ والسلام راستہ بھی بھول گئے تھے اور اسی رات اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجہ مطہرہ کودرد زہ (یعنی بچے کی ولادت کا درد) بھی شروع ہو گیا۔ اسی حال میں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دور سے ایک روشنی ملاحظہ فرمائی۔اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی گھر والی سے کہا:میں نے ایک اگ دیکھی ہے تم یہیں ٹھہرو میں ا س طرف جاتا ہوں اور تھوڑی دیر میں تمہارے پاس راستے کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی ہوئی چنگاری لے اؤں گا تاکہ تم اس سے گرمی حاصل کرو اور سردی کی تکلیف سے امن پاؤ۔ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اس آگ کے پاس ائے تو انہیں ندا کی گئی کہ اس موسی کوبرکت دی گئی جو اس آگ کی جگہ میں ہے اور جو اس اگ کے آس پاس فرشتے ہیں انہیں برکت دی گئی اور اللہ تعالی پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔اے موسی !بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں جوعزت والا حکمت والاہے اور اپنا عصا زمین پرڈال دو۔چنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کے حکم سے عصا ڈال دیا تو وہ سانپ بن گیا۔جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے لہراتے ہوئے دیکھا تواپ علیہ الصلوۃ والسلام خوف کی وجہ سے پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ اللہ تعالی نے فرمایا:اے موسی !ڈرو نہیں بیشک میری بارگاہ میں سانپ یا کسی اور چیز سے رسول ڈرتے نہیں جب میں انہیں امن دوں تو پھر کسی چیز کا کیا اندیشہ ہےلیکن جس شخص نے کوئی ز یادتی کی اس کو ڈر ہوگا یہاں تک کہ وہ اس سے توبہ کر لے اور برائی کے بعد اپنے عمل کونیکی سے بدل دے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں توبہ قبول فرماتا ہوں اور بخش دیتا ہوں ۔ اس کے بعد حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دوسری نشانی دکھائی گئی اور فرمایا گیا’’ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر باہر نکالوتووہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت صوف کا جبہ پہنے ہوئے تھے اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تووہ سورج کی شعاعوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ بھی فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجتے وقت اللہ تعالی کی دی ہوئی نو نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے بیشک وہ فرعونی نافرمان لوگ ہیں اور کفر و سرکشی میں حد سے بڑھ چکے ہیں ۔ (خازن النمل تحت الایۃ: ۷-۱۲ ۳ / ۴۰۱-۴۰۲ روح البیان النمل تحت الایۃ: ۱۲ ۶ / ۳۲۴ ملتقطا) {یموسى: اے موسی۔} یاد رہے کہ اس ندا سے اور اس واقعے سے ولایت و معرفت کے بہت سے اسرار اخذ کئے گئے ہیں۔ { فی تسع ایت: نو نشانیوں میں سے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو جو نونشانیاں عطا کی گئیں وہ یہ ہیں : (1) عصا۔(2)ید بیضا۔(3) بولنے میں دقت جو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک میں تھی پھر اللہ تعالی نے اسے دور فرمادیا۔(4) دریاکا پھٹنا اوراس میں رستے بننا۔ (5)طوفان۔(6) ٹڈی۔(7) گھن۔(8) مینڈک۔(9) خون۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۱ ۳ / ۱۹۴) اس رکوع میں پہلی دو نشانیاں بیان کی گئی ہیں جبکہ ان میں سے اخری6 نشانیوں کا مفصل بیان نویں پارے کے چھٹے رکوع میں گزر چکاہے۔