Surah Al Qasas Ayat 32 (28:32)
The Stories · Juz 20 · Makki
اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ٘-وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تووہ بغیر کسی مرض کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ اپنے ساتھ ملالو تو تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف یہ دو بڑی دلیلیں ہیں ،بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاپنا ہاتھ گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب اور اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو تو یہ دو حجتیں ہیں تیرے رب کی فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{اسلك یدك فی جیبك: اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے مزید فرمایا گیا کہ اپنا ہاتھ اپنی قمیص کے گریبان میں ڈال کر نکالو تووہ کسی مرض کے بغیر سفید اور سورج کی شعاع کی طرح چمکتا ہوا نکلے گا۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا دست مبارک گریبان میں ڈال کر نکالا تو اس میں ایسی تیز چمک تھی جس سے نگاہیں جھپک گئیں ۔اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’اور خوف دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ اپنے ساتھ ملالو تاکہ ہاتھ اپنی اصلی حالت پر آئے اور خوف دور ہو جائے۔ یہاں جس خوف کا ذکر ہوا اس کے سبب کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ہاتھ کی چمک دیکھ کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں خوف پیدا ہوا اور اس خوف کو دور کرنے کے لئے یہ طریقہ ارشاد فرمایا گیا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہی خوف مراد ہے جو سانپ کو دیکھنے سے پیدا ہو اتھااسے ایت میں بیان کئے گئے طریقے سے دور کیا گیا ۔پھر ارشاد فرمایا کہ عصا اور روشن ہاتھ تیرے رب عزوجل کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تمہاری رسالت کی دو بڑی دلیلیں ہیں بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں اور وہ ظلم و سرکشی کی حد پار کر چکے ہیں ۔( مدارک القصص تحت الایۃ: ۳۲ ص۸۶۹ خازن القصص تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۴۳۲ جلالین القصص تحت الایۃ: ۳۲ ص۳۳۰ ملتقطا)