Surah Al Qasas Ayat 55 (28:55)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ٘-سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ٘-لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں سلام، ہم جاہلوں کا ساتھ نہیں چاہتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل بس تم پر سلام ہم جاہلوں کے غرضی نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا سمعوا اللغو اعرضوا عنه: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ مکہ کے مشرکین اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کو گالیاں دیتے اور ان سے کہتے کہ تمہارا ستیاناس ہو تم نے اپنے پرانے دین کو چھوڑ دیا۔ان کے اس طرز عمل پر ایمان لانے والے اہل کتاب ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں :ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں دور ہی سے سلام ہے اور ہم جاہلوں کے ساتھ دوستی نہیں کرنا چاہتے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ مشرک لوگ مکہ مکرمہ کے ایمانداروں کو ان کا دین ترک کرنے اور اسلام قبول کرنے پر گالیاں دیتے اور برا کہتے یہ حضرات ان کی بیہودہ باتیں سن کر اعراض فرماتے اور ان سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارا دین ہے اور تمہارے لئے تمہارا دین ہے ہم تمہاری بیہودہ باتوں اور گالیوں کے جواب میں گالیاں نہ دیں گے اور ہم جاہلوں کے ساتھ میل جول نشست و برخاست نہیں چاہتے کیونکہ ہمیں جاہلانہ حرکات گوارا نہیں ۔( روح البیان القصص تحت الایۃ: ۵۵ ۶ / ۴۱۴ خازن القصص تحت الایۃ: ۵۵ ۳ / ۴۳۶ ملتقطا)