Surah Al Qasas Ayat 56 (28:56)
The Stories · Juz 20 · Makki
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ایسا نہیں ہے کہ تم جسے چاہو اسے اپنی طرف سے ہدایت دیدو لیکن الله جسے چاہتا ہے ہدایت دیدیتا ہے اور وہ ہدایت والوں کوخوب جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں الله ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{انك لا تهدی من احببت: بیشک ایسا نہیں ہے کہ تم جسے چاہو اسے اپنی طرف سے ہدایت دیدو۔} مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ ایت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ۔صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس ایت کا شان نزول یوں مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے چچا (ابو طالب) سے اس کی موت کے وقت فرمایا: اے چچا! ’’لا الـہ الااللہ‘‘کہو میں تمہارے لئے قیامت کے دن گواہ ہوں گا۔ اس نے (صاف انکار کر دیا اور) کہا:اگر مجھے قریش کی طرف سے عیب لگائے جانے کا اندیشہ نہ ہوتا (کہ موت کی سختی سے گھبرا کر مسلمان ہو گیا ہے) تو میں ضرور ایمان لا کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کرتا ۔اس پر اللہ تعالی نے یہ ایت کریمہ نازل فرمائی۔( خازن القصص تحت الایۃ: ۵۶ ۳ / ۴۳۷ تفسیر کبیر القصص تحت الایۃ: ۵۶ ۹ / ۵ ملتقطا) اور ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنے چچا کے ایمان نہ لانے کا غم نہ کریں اپ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کرچکے ہدایت دینا اور دل میں ایمان کا نور پیدا کرنا یہ اپ کا فعل نہیں بلکہ اللہ تعالی کے اختیار میں ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ کسے یہ دولت دے گا اور کسے اس سے محروم رکھے گا۔(مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ اسلام من حضرہ الموت۔۔۔ الخ ص۳۴ الحدیث: ۴۱-۴۲(۲۵)) ابو طالب کے ایمان سے متعلق اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تحقیق: اعلی حضرت مجدد دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ابو طالب کے ایمان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :اس میں شک نہیں کہ ابو طالب تمام عمر حضور سید المرسلین سید الاولین والاخرین سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ وعلی الہ وسلم الی یوم القرار کی حفظ و حمایت وکفالت و نصرت میں مصروف رہے۔ اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھا اور اس وقت میں ساتھ دیا کہ ایک عالم حضور کا دشمن جاں ہوگیاتھااور حضور کی محبت میں اپنے تمام عزیزوں قریبیوں سے مخالفت گواراکیسب کو چھوڑدینا قبول کیاکوئی دقیقہ غمگساری و جاں نثاری کا نامرعی نہ رکھا (یعنی ہر لمحے غمگساری اور جاں نثاری کی) اور یقینا جانتے تھے کہ حضور افضل المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں ان پر ایمان لانے میں جنت ابدی اور تکذیب میں جہنم دائمی ہے بنوہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصدیق کرو فلاح پاؤ گے نعت شریف میں قصائدان سے منقول اور ان میں براہفراست وہ امور ذکر کیے کہ اس وقت تک واقع نہ ہوئے تھے (بلکہ) بعد بعثت شریف ان کا ظہور ہوایہ سب احوال مطالعہ احادیث و مراجعت کتب سیر (یعنی سیرت کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے ) سے ظاہر۔مگر مجردان امور سے ایمان ثابت نہیں ہوتا۔ کاش یہ افعال واقوال ان سے حالت اسلام میں صادر ہوتے تو سیدنا عباس بلکہ ظاہرا سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی افضل قرار پاتے اور افضل الاعمام حضور افضل الانام علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والسلام (یعنی تمام انسانوں سے افضل حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سب سے افضل چچا) کہلائے جاتے ۔ تقدیر الہی نے بربنا اس حکمت کے جسے وہ جانے یا اس کا رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انہیں گروہ مسلمین و غلامان شفیع المذنبین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں شمار کیا جانا منظور نہ فرمایا۔ فاعتبروا یاولی الابصار۔ (تو اے عقل رکھنے والو! ان کے حال سے عبرت حاصل کرو) صرف معرفت گو کیسی ہی کمال کے ساتھ ہو ایمان نہیں ۔(فتاوی رضویہرسالہ: شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ۲۹ / ۶۶۱) مزید فرماتے ہیں : ’’آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ متوافرہ متظافرہ (یعنی بکثرت صحیح احادیث) سے ابو طالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کا ر اصحاب نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجال دم زدن نہیں ۔( فتاوی رضویہرسالہ: شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ۲۹ / ۶۵۷-۶۵۸) نوٹ:ابو طالب کے ایمان نہ لانے سے متعلق تفصیلی دلائل کی معلومات کے لئے فتاوی رضویہ کی29ویں جلد میں موجود اعلی حضرت امام احمد رضا خان کا رسالہ ’’شرح المطالب فی مبحث ابی طالب‘‘ (ابو طالب کے ایمان سے متعلق بحث) کا مطالعہ کریں ۔