Surah Al Qasas Ayat 61 (28:61)
The Stories · Juz 20 · Makki
اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ 61
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے پھر وہ اس (وعدے) سے ملنے والا (بھی) ہے کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے (صرف) دنیوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{افمن وعدنه وعدا حسنا: تو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تم اس بات پر غور کرو کہ وہ شخص جس سے ہم نے ا س کے ایمان اور طاعت پر جنت کے ثواب کا اچھا وعدہ کیا ہوا ہے پھر وہ اس وعدے کو پانے والا بھی ہے کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے صرف دنیوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو اور یہ ساز و سامان عنقریب زائل ہوجانے والا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو!یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ جسے اچھا وعدہ دیا گیا اس سے مراد مومن ہے اور دوسرے شخص سے کافر مراد ہے۔( روح البیان القصص تحت الایۃ: ۶۱ ۶ / ۴۲۰ جلالین القصص تحت الایۃ: ۶۱ ص۳۳۲ ملتقطا) دنیا کا طلبگار اور اخرت کا خواہش مند برابر نہیں : اس سے معلوم ہواکہ جو شخص صرف دنیا کا طلبگار اور اخرت سے بے پرواہ ہے وہ ا س شخص جیسا نہیں جودنیا کی زندگی اور ا س کے عیش و عشرت پر قناعت کرنے کی بجائے اخرت کی اچھی زندگی کا خواہش مند اور وہاں کی عظیم الشان دائمی نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کا وہ عیش و عشرت جس کے بعد بندہ عذاب میں مبتلا ہو جائے کسی طرح بھی اس قابل نہیں کہ اسے اخرت پر ترجیح دی جائے اور نہ ہی کوئی عقل مند انسان ایسا کر سکتا ہے۔