Surah Al Qasas Ayat 83 (28:83)
The Stories · Juz 20 · Makki
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{تلك الدار الاخرة: یہ آخرت کا گھر۔} ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور اخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔( روح البیان القصص تحت الایۃ : ۸۳ ۶ / ۴۳۸ قرطبی القصص تحت الایۃ: ۸۳ ۷ / ۲۴۰ الجزء الثالث عشر ملتقطا) تکبر کرنے اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس ایت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و انکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔ حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالی نے مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ انکسار ی کرو حتی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔( مسلم کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ ۔۔۔ الخ ص ۱۵۳۳ الحدیث: ۶۴(۲۸۶۵))