Surah Al Qasas Ayat 86 (28:86)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی نہ کرنا۔
Tafseer (Urdu)
{و ما كنت ترجوا ان یلقى الیك الكتب: اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی۔}ممکن ہے کہ اس ایت کا ظاہری معنی مراد ہواس صورت میں ایت کا مطلب یہ ہو گا کہ اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اللہ تعالی کی رحمت کے علاوہ کسی اور سبب سے قران مجید ملنے کی امید نہ رکھتے تھے اور جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے اپ کی طرف قران مجید نازل فرمایا ہے تو اپ پہلے کی طرح اب بھی کافروں کے مددگار نہ ہونے پر قائم رہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں بظاہر خطاب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہو اور مراد اپ کی امت ہو یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت کو یہ توقع نہ تھی کہ انہیں یہ کتاب عطا کی جائے گی لیکن اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدقے ان پر رحمت فرمائی اور ان کی طرف قران مجید جیسی عظیم الشان کتاب بھیجی تواے بندے!جب تمہیں ایسی عظیم نعمت ملی ہے تو تم ہر گز کافروں کے مددگار نہ ہونا بلکہ ان سے جدا رہنا اور ان کی مخالفت کرتے رہنا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت کی خبر تھی: یاد رہے کہ اس ایت سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت سے خبردار نہیں تھے کیونکہ یہاں ظاہری اسباب کے لحاظ سے وحی نازل ہونے کی امید کی نفی ہے اور کثیر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ وحی نازل ہونے سے پہلے بھی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی نبوت کی خبر رکھتے تھے جیسے بحیرا راہب نے بچپن ہی میں اپ کی نبوت کی خبر دے دی تھینسطورا راہب نے جوانی میں اپ کی نبوت کی خبر دی اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت (اعلان نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام عرض کیا کرتا تھا اور میں اب بھی اسے پہچانتا ہوں ۔( مسلم کتاب الفضائل باب فضل نسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ ص۱۲۴۹ الحدیث: ۲(۲۲۷۷)) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئیارشاد فرمایا: ’’جس وقت حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔( ترمذی کتاب المناقب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باب ما جاء فی فضل النبیصلی اللہ علیہ وسلم ۵ / ۳۵۱ الحدیث: ۳۶۲۹) ان تمام احادیث میں اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھالہذا یہ نظریہ ہر گز درست نہیں کہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وحی نازل ہونے کے بعد اپنے نبی ہونے کا علم ہو اتھا۔