Surah Al Ankabut Ayat 13 (29:13)
The Spider · Juz 20 · Makki
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-وَ لَیُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و لیحملن اثقالهم: اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے۔} ارشاد فرمایاکہ مسلمانوں سے ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کا کہنے والے کفار کا اپنا یہ حال ہو گا کہ وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں اور کفر وگمراہی کابوجھ اٹھائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ جن لوگوں کوانہوں نے گمراہ کیاتھاان کے گناہوں کابوجھ بھی یہی لوگ اٹھائیں گے اورقیامت کے دن ضروران سے ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے یہ بہتان کیوں تراشے اور کس دلیل کی وجہ سے انہوں نے بہتان لگائے ۔یاد رہے کہ کافروں کے اعمال اور بہتان سب اللہ تعالی جانتا ہےاس کے باوجود کافروں سے جو سوال ہو گاوہ معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہو گا بلکہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے کیلئے ہو گا۔ دوسروں کو گمراہ اور گناہوں میں مبتلا کرنے کا انجام: اس ایت سے معلو م ہوا کہ جو خود گمراہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف بلاتا ہو تواسے اپنی گمراہی کا گناہ اور اس کی سزا تو ملے گی البتہ اس کے ساتھ ان لوگوں کی گمراہی کا گناہ اور سزا بھی اسے ملے گی جنہیں اس نے گمراہ کیا تھا اور گمراہ ہونے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اس کو اس کا ثواب ملے گا اوراس کابھی جواس کے بعد اس پر عمل کریں گے او ران عمل کرنے والوں کے اپنے ثواب میں بھی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں براطریقہ جاری کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اوران کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ائے گی ۔(صحیح مسلم کتاب الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ۔۔۔ الخ ص۵۰۸ الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷)) اس سے ان لوگوں کو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی بڑی ضرورت ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گناہوں میں مبتلا ہونے کے مواقع فراہم کرتے اور انہیں طرح طرح کے دنیوی منافع اور فوائد بتا کر گناہوں کی ترغیب دیتے ہیں اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائےامین۔